-Advertisement-

عالمی توانائی کا بحران 2027 تک جاری رہ سکتا ہے، سعودی آرامکو کے سی ای او کا انتباہ

تازہ ترین

ایلون مسک اور ٹم کک سمیت اہم کاروباری شخصیات کا ٹرمپ کے دورہ چین میں شامل ہونے کا امکان

وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں ہفتے متوقع دورہ چین کے لیے معروف کاروباری شخصیات کو...
-Advertisement-

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی سطح پر توانائی کا سب سے بڑا بحران پیدا کر دیا ہے، جس کے اثرات سے مارکیٹ کی بحالی 2027 تک طویل ہو سکتی ہے، چاہے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی فوری طور پر ختم ہی کیوں نہ کر دی جائے۔ سعودی آئل کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ایچ ناصر نے سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز آج بھی کھول دی جائے تو مارکیٹ کو متوازن ہونے میں کئی ماہ لگیں گے، اور اگر اس میں مزید تاخیر ہوئی تو بحالی کا عمل 2027 تک جاری رہے گا۔

آرامکو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کمپنی کے منافع میں 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز پر برآمدات کی بندش کے باعث تیل کی بلند قیمتیں ہیں۔ امین ناصر نے کہا کہ توانائی کی سپلائی میں آنے والا یہ تعطل دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا بحران ہے۔

مارچ میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جبکہ فروری کے اوائل میں یہ قیمت 60 ڈالر کے وسط میں تھی۔ ایران کی جانب سے اہم آبی گزرگاہ کی بندش کے بعد سے اب تک عالمی مارکیٹ کو تقریباً 880 ملین بیرل تیل کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کمپنی کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو آبنائے ہرمز کی بندش کے ہر ہفتے مارکیٹ کو مزید 100 ملین بیرل تیل کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سعودی عرب نے اس بحران کے دوران اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو 7 ملین بیرل یومیہ کی مکمل صلاحیت کے ساتھ استعمال کیا ہے تاکہ تیل کی ترسیل جاری رکھی جا سکے۔ اس کے علاوہ حکومتی اسٹریٹجک ذخائر کے اجرا اور متبادل راستوں سے بھی نقصان کو کسی حد تک کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دریں اثنا، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کسی پائیدار معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز تہران کی جانب سے واشنگٹن کی تجویز پر دیے گئے ردعمل کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ آرامکو کے سی ای او کا کہنا ہے کہ جب بھی تجارتی اور جہاز رانی کا عمل معمول پر آئے گا، تو تیل کی طلب میں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوگا۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران نے امریکی اثاثوں کے ساتھ ساتھ شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ سعودی عرب میں ریاض، مشرقی صوبے اور صنعتی شہر ینبع میں تیل و گیس کی پیداوار، نقل و حمل، ریفائننگ، پیٹرو کیمیکل پلانٹس اور بجلی کے مراکز کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -