-Advertisement-

پاکستان اور آسٹریا کا علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال، اسحاق ڈار کا ایران، امریکہ ثالثی جاری رکھنے کا عزم

تازہ ترین

ایران یورینیم افزودگی روک دے گا، مجھے سو فیصد یقین ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں...
-Advertisement-

پاکستان اور آسٹریا کے درمیان سفارتی روابط میں تیزی آ گئی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور آسٹریا کی وزیر خارجہ بیٹا مائنل ریسنگر کے درمیان منگل کے روز ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور سفارتی سطح پر جاری کاوشوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ گفتگو کا محور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران و امریکہ کے مابین جاری سفارتی رابطے رہے۔

آسٹریا کی وزیر خارجہ نے خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی اور سہولت کاری کے لیے اسلام آباد کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے اس موقع پر اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے پرعزم ہے اور ایران و امریکہ کے مابین مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد صرف علاقائی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی پیمانے پر امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان نے حالیہ مہینوں کے دوران عالمی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ سفارتی رابطوں میں اضافہ کیا ہے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور مستقل سفارتی چینلز ناگزیر ہیں۔

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ یہ رابطہ پاکستان اور آسٹریا کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی ہم آہنگی کا عکاس ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر امن کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -