نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے ملک بھر میں 17 مئی تک موسمی صورتحال کے حوالے سے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر ملک کے بالائی علاقوں میں 12 سے 16 مئی کے دوران ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ دریائے چترال اور اس سے ملحقہ ندیوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے جبکہ سوات، دیر، شانگلہ، بونیر، کوہستان اور مانسہرہ کے برساتی نالوں میں بھی پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔
گلگت بلتستان کے اضلاع غذر، ہنزہ، نگر، دیامر اور سکردو سمیت دیگر علاقوں میں بھی مقامی سطح پر سیلابی ریلوں کا خطرہ موجود ہے۔ آزاد کشمیر کے اضلاع مظفرآباد، نیلم ویلی اور باغ میں بھی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اسلام آباد، مری، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، جھنگ، اوکاڑہ، بہاولپور اور بہاولنگر میں تیز ہواؤں اور ژالہ باری کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ خیبر پختونخوا کے چترال، دیر، سوات، مالاکنڈ، ایبٹ آباد، پشاور، نوشہرہ، مردان، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں بھی موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ سندھ کے اضلاع حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ، جامشورو اور میرپور خاص میں بھی آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور کمزور ڈھانچوں، بجلی کے کھمبوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے منع کیا ہے۔ سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں اور لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوں کے نزدیک قیام نہ کریں۔
تمام متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ریسکیو ٹیمیں اور ڈی واٹرنگ مشینری ہمہ وقت تیار رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو ہنگامی صورتحال کے پیش نظر انخلا کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور تازہ ترین موسمی صورتحال جاننے کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کا استعمال کریں۔
