-Advertisement-

روس کا دنیا کے طاقتور ترین انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، پیوٹن کی تعریف

تازہ ترین

نیویارک میں جیفری ایپسٹین کی خفیہ دستاویزات کی نمائش کا آغاز

نیویارک میں ایک امریکی ٹرانسپیرنسی گروپ نے ایک عارضی نمائش کا اہتمام کیا ہے جس میں جیفری ایپسٹین سے...
-Advertisement-

روس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے منگل کے روز ایک نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس کامیاب تجربے کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ سارمات نامی یہ جوہری صلاحیت کا حامل میزائل رواں سال کے اختتام تک روسی فوج کا باقاعدہ حصہ بن جائے گا۔

روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ سارمات دنیا کا طاقتور ترین میزائل ہے جس کی تباہ کن صلاحیت کسی بھی مغربی ہم عصر میزائل سے چار گنا زیادہ ہے۔ یہ میزائل سوویت دور کے پرانے وئیووڈا میزائل کی جگہ لے گا، جس کی تیاری کا عمل 2011 میں شروع ہوا تھا۔ نیٹو کی جانب سے اسے شیطان ٹو کا نام دیا گیا ہے۔

تجزیاتی رپورٹ کے مطابق سارمات میزائل 10 ٹن تک وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی رینج 21 ہزار 700 میل سے زائد ہے۔ صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ یہ میزائل کسی بھی ممکنہ امریکی میزائل دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کی اہلیت رکھتا ہے۔

پیوٹن نے یوکرین میں جاری تنازع کے حوالے سے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ یہ جنگ اختتام کے قریب ہے۔ فروری 2022 میں یوکرین میں فوجی کارروائی شروع کرنے کے بعد سے روسی صدر نے مغربی ممالک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے بارہا جوہری طاقت کا تذکرہ کیا ہے۔

روس کے جوہری ہتھیاروں کے جدید پروگرام میں ایوانگارڈ ہائپر سونک گلائیڈ وہیکل، اوریشنک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل، پوسیڈن زیر آب ڈرون اور بیورویسٹینک کروز میزائل شامل ہیں۔ ان ہتھیاروں کا مقصد امریکی میزائل شیلڈ کے مقابلے میں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنا ہے۔

امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کا آخری معاہدہ فروری میں ختم ہو چکا ہے، جس کے بعد دنیا کے دو بڑے ایٹمی ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ تاہم، دونوں ممالک نے یوکرین جنگ سے قبل معطل ہونے والے فوجی مواصلاتی رابطوں کو بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی اور یوکرینی حکومتیں ممکنہ طور پر ایک نئے ڈرون دفاعی معاہدے کے مسودے پر کام کر رہی ہیں، جس کا مقصد یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -