-Advertisement-

ایران کا جوہری پروگرام روکنا امریکی معاشی مشکلات سے زیادہ اہم ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

تازہ ترین

روس کا دنیا کے طاقتور ترین انٹرکانٹینینٹل بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ، پیوٹن کی تعریف

روس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے منگل کے روز ایک نئے...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں ان کا بنیادی ہدف تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے اور اس عمل میں امریکیوں کی مالی مشکلات ان کے فیصلہ سازی کے عمل پر اثر انداز نہیں ہو رہیں۔ چین کے دورے پر روانگی سے قبل وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس سوال کو سختی سے مسترد کر دیا کہ کیا امریکیوں کی معاشی صورتحال ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں معاشی حالات کا ذرہ برابر بھی عمل دخل نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے ان کے نزدیک صرف ایک ہی چیز اہمیت رکھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ تہران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے میں کسی اور چیز کے بارے میں نہیں سوچتے کیونکہ ان کی واحد ترجیح یہ ہے کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکا جائے۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان پر سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ناقدین کا ماننا ہے کہ انتظامیہ کو جیو پولیٹیکل مقاصد اور شہریوں پر پڑنے والے معاشی اثرات کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہیے۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی ووٹرز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں اور ریپبلکن پارٹی کے اراکین کو خدشہ ہے کہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات پارٹی کو بھاری نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

ایران کے ساتھ تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے پیٹرول کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے جس سے افراط زر میں اضافہ ہوا ہے۔ منگل کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں امریکی صارفین کے لیے افراط زر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے صدر کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی اولین ذمہ داری امریکیوں کا تحفظ اور سلامتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو وہ جوہری ہتھیار حاصل کر لے گا جو تمام امریکیوں کے لیے خطرہ ہے۔

دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کی صورتحال میں گزشتہ دو ماہ کی جنگ کے باوجود کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار وقت گزشتہ موسم گرما کے اندازوں کے مطابق نو ماہ سے ایک سال کے درمیان ہی ہے۔ ایران مسلسل ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -