-Advertisement-

افغانستان دہشت گردی نہ روکے تو دہلی جیسا جواب دیں گے، خواجہ آصف کی کابل کو تنبیہ

تازہ ترین

چینی تجارتی وفد کا دورہ ایف پی سی سی آئی: دوطرفہ اقتصادی تعلقات اور مشترکہ سرمایہ کاری پر اتفاق

کراچی میں چین کے تجارتی اور صنعتی وفد نے فیڈریشن ہاؤس کا دورہ کیا ہے جس میں 50 سے...
-Advertisement-

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر کابل حکومت نے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم نہ کیں تو پاکستان بھارت کے خلاف اپنائی گئی پالیسی کے عین مطابق افغانستان کے خلاف بھی سخت جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جس طرح گزشتہ برس دہلی کے ساتھ معاملہ کیا گیا تھا، اسی طرح کابل کے ساتھ بھی نمٹا جائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان اس وقت بھارت کے زیر اثر ایک پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے اور کابل ہمارے خلاف ہندوتوا کے ایجنڈے پر چل رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان نے ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے ذریعے سفارتی سطح پر بارہا مذاکرات کی کوشش کی، تاہم افغان حکام زبانی وعدوں کے باوجود تحریری ضمانت دینے سے مسلسل گریزاں ہیں۔

وفاقی وزیر نے مطالبہ کیا کہ کابل حکومت تحریری طور پر یقین دہانی کرائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی اور وہاں موجود دہشت گردوں کو بے دخل کیا جائے گا۔ انہوں نے بنوں میں ہونے والے حالیہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ملک کے دفاع میں عظیم قربانیاں دے رہی ہے، مگر افغانستان کی ہٹ دھرمی ہمیں جنگ کی جانب دھکیل رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کسی تیسرے ملک کے توسط سے پس پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے خوش آئند بات قرار دی کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اب انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر وفاق کے ساتھ ایک صفحے پر ہے، تاہم انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر کابل کا رویہ تبدیل نہ ہوا تو صورتحال کھلی جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔

فوجی عدالتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت جلد اس معاملے پر نئی قانون سازی لائے گی، جبکہ سابقہ فاٹا کے فنڈز کے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے تاکہ ان علاقوں کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -