وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے اضلاع کو خود مختاری دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اب ترقیاتی منصوبوں کی منظوری مقامی سطح پر دستیاب وسائل سے دی جا سکے گی۔
ڈویژنل کمشنرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے افسران کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کچھ افسران نے زمینی حقائق کے بجائے صرف دکھاوے کی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ افسران ایئر کنڈیشنڈ دفاتر سے نکل کر میدان میں آئیں کیونکہ عوام کو عملی ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
فیصل آباد ڈویژن میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کھلے گٹر میں گر کر تین سالہ بچی کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر مریم نواز نے سخت نوٹس لیتے ہوئے وارننگ دی کہ کسی بھی شہری کے کھلے مین ہول میں گرنے کی صورت میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان کو گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نجی سوسائٹیز سے ماہانہ حلف نامے لیے جائیں کہ ان کے علاقے میں کوئی مین ہول کھلا نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حالت زار کی کڑی نگرانی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کمشنرز حکومت کے بازو اور آنکھیں ہیں، لہذا انہیں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانا ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں اور تمام کام میرٹ پر ہوں گے، سفارش یا جانبداری کی پالیسی نہیں چلے گی۔
ایک اور تقریب کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز نے سندر اسٹیٹ فلیٹس پروجیکٹ کے تحت 720 مزدور خاندانوں میں مفت فلیٹس کے الاٹمنٹ لیٹرز اور چابیاں تقسیم کیں۔ اس عمل میں بیواؤں اور خصوصی افراد کو ترجیح دی گئی۔ مریم نواز نے کہا کہ غریب مزدوروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو چھت فراہم کرنا ان کے لیے باعث اطمینان ہے۔
