سینئر سیاست دان اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے کچھ حاصل نہیں ہوا، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی نے عالمی معاشی اور توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ تلسی گبارڈ کی جانب سے پاکستان کے بارے میں دیے گئے بیانات حقائق کے منافی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بلیک میل کر کے جال میں پھنسایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اس بات پر مطمئن ہے کہ ایران نے جنگی صورتحال کو انتہائی مؤثر طریقے سے سنبھالا ہے۔
مشاہد حسین سید نے زور دیا کہ امت مسلمہ کو گریٹر اسرائیل کے تصور کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ عالم اسلام کے عوام کا موقف تو واضح ہے مگر ان کے حکمران خوف کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ جاری ہونے والا اعلامیہ پوری امت مسلمہ کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ یہ محض چند ممالک کا موقف ہے۔
سابق سینیٹر نے کہا کہ ایران کا مطالبہ ہے کہ خلیجی ممالک کی سرزمین کو اس کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ روس کو کمزور کرنے کے لیے یوکرین کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ روس اور چین کی جانب سے ایران کی مدد ایک مثبت پیش رفت ہے۔
کراچی میں پاکستان کے سرکردہ ونڈ انرجی پیدا کرنے والے اداروں کے کنسورشیم نے انڈیپنڈنٹ…
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا موازنہ دہائیوں…
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی…
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل…
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کے روز وسطی ایران کی فضائی…
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں بس اڈوں، تجارتی مراکز اور بازاروں…