-Advertisement-

ایران کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کی حکمت عملی میں واضح تضاد

تازہ ترین

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دنیا بھر میں عید الفطر مذہبی جوش و خروش سے منائی جا رہی ہے

سعودی عرب، خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں عید الفطر مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت و...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مابین تعلقات بظاہر خوشگوار دکھائی دیتے ہیں، تاہم ایران پر حملوں کے بعد دونوں رہنماؤں کی حکمت عملیوں میں واضح خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تضاد کی بنیادی وجہ ٹرمپ کے غیر واضح اہداف ہیں۔

جمعرات کو امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو ایران کے گیس فیلڈز پر حملے سے روکا تھا۔ یہ اقدام تہران کی جانب سے قطر میں توانائی کے ایک بڑے مرکز پر جوابی حملے کے بعد سامنے آیا، جس سے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اس سے قبل امریکا نے تہران کے قریب ایندھن کے ذخائر پر اسرائیلی بمباری پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے نتیجے میں شہر زہریلے دھوئیں کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔

امریکی قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ نے کانگریس کی سماعت کے دوران اعتراف کیا کہ صدر ٹرمپ اور اسرائیل کے اہداف ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جہاں نیتن یاہو ایران میں حکومت کی تبدیلی یا اسے مکمل طور پر کچلنے کا واضح عزم رکھتے ہیں، وہیں ٹرمپ کا حتمی لائحہ عمل مبہم ہے۔

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے برائن کیٹولس کا کہنا ہے کہ اسرائیل حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے جبکہ امریکا کے پاس اس جنگ کے اختتام کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ ٹرمپ کو جہاں ایک جانب ملکی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوامی دباؤ کا سامنا ہے، وہیں انہیں خلیجی ممالک کے تحفظ کی فکر بھی لاحق ہے جو امریکی فوج کے اڈے فراہم کرتے ہیں اور ایران کے لیے آسان ہدف ہو سکتے ہیں۔

لندن کے تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس کے یوسی میکلبرگ کے مطابق، جب تک جنگی حالات قابو میں رہیں، دونوں رہنما ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے ہیں، لیکن حالات خراب ہونے پر ٹرمپ کا غیر جذباتی رویہ الزام تراشی کا باعث بن سکتا ہے۔

ییل جیکسن اسکول آف گلوبل افیئرز کے رابرٹ میلی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیاں گھنٹوں کے حساب سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے عزائم کو سمجھنے کے لیے پالیسی تجزیہ کار کے بجائے ماہر نفسیات کی ضرورت ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم میں ٹرمپ کی حمایت کو نمایاں کر رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ کے لیے اس جنگ کے اخراجات ان کے داخلی ایجنڈے کے لیے رکاوٹ بنتے جا رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -