برسلز میں نیٹو ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اتحاد نے عراق میں اپنے مشاورتی مشن سے تمام فوجی اہلکاروں کو واپس بلا لیا ہے۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں ایران اور خطے کے دیگر حصوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔
نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ، امریکی فضائیہ کے جنرل ایلکسس گرنکویچ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے نیٹو اہلکاروں کی عراق سے محفوظ منتقلی میں تعاون کرنے پر جمہوریہ عراق اور تمام اتحادی ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔
نیٹو کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واپس بلائے گئے اہلکاروں کی تعداد کئی سو کے قریب ہے۔ بیان کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تمام اہلکاروں کو یورپ منتقل کر دیا گیا ہے۔
حالیہ دنوں کے دوران پولینڈ، اسپین اور کروشیا سمیت کئی ممالک نے بھی ایران اور خلیجی خطے میں جاری تنازع کے پیش نظر اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
نیٹو کا کہنا ہے کہ مشن کا کام اب اٹلی کے شہر نیپلز میں قائم فوجی ہیڈکوارٹرز سے جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ اس مشن کا کردار جنگی نوعیت کا نہیں ہے اور یہ بنیادی طور پر عراقی سیکیورٹی فورسز کو مشاورت فراہم کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر مرکوز ہے۔
جنرل ایلکسس گرنکویچ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ نیٹو مشن عراق کے ان تمام اہلکاروں کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ انہوں نے ان اہلکاروں کو پیشہ ورانہ مہارتوں کا حامل قرار دیا۔
واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی پینٹاگون نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے…
ماسکو (شاہد گھمن) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے عید الفطر کے پرمسرت موقع پر ملک…
وزیراعظم شہباز شریف نے عید الفطر کے پرمسرت موقع پر ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری…
امریکی عسکری حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تین ہفتے مکمل ہونے…
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو اکیس دن مکمل ہو چکے ہیں،…
کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی سندھ نے ریلوے تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ایک…