برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں یہودی برادری کی فلاحی تنظیم کی چار ایمبولینسز کو نذر آتش کر دیا گیا، جسے پولیس نے نفرت انگیز کارروائی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق یہ واقعہ شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں پیش آیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں اس واقعے کو یہود مخالف نفرت انگیز جرم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
لندن فائر بریگیڈ کے مطابق آگ بجھانے کے لیے چھ گاڑیوں اور چالیس فائر فائٹرز نے حصہ لیا۔ مقامی رہائشیوں کی جانب سے رات ایک بج کر چالیس منٹ پر اطلاع دی گئی تھی۔ گاڑیوں میں موجود سلنڈرز کے دھماکوں سے قریبی رہائشی عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، تاہم فائر بریگیڈ نے صبح تین بج کر چھ منٹ تک آگ پر مکمل قابو پا لیا۔
یہ ایمبولینسز ہیٹزولا نامی غیر منافع بخش تنظیم کی ملکیت تھیں جو طبی ہنگامی صورتحال میں امدادی خدمات فراہم کرتی ہے۔ برطانوی وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے اس واقعے کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہود مخالف نفرت کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔
کمیونٹی سیکیورٹی ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو مارک گارڈنر نے کہا کہ یہ واقعہ لیج، روٹرڈیم اور ایمسٹرڈیم میں ہونے والے اسی نوعیت کے واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی غزہ جنگ کے بعد سے برطانیہ میں یہود مخالف واقعات کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ لبنان کی سرحد پر اتوار کے روز ہلاک…
نوڈیرو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور سے میئر…
ایران کی ڈیفنس کونسل نے پیر کے روز سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کردہ بیان…
کراچی میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے کیے گئے…
لندن میں یہودی ایمبولینس سروس کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے واقعے کے بعد…
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں پودا لگا…