ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا جائزہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران خلیج میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان پیغامات کے تبادلے کا مطلب امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہیں۔ سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گئے خیالات کو اعلیٰ حکام تک پہنچا دیا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس حوالے سے حتمی موقف کا اعلان کیا جائے گا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق ایران نے ثالثوں پر واضح کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان کی شمولیت لازمی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت معاہدہ کرنا چاہتی ہے مگر وہ اپنے داخلی خوف کے باعث اس کا اظہار کرنے سے گریزاں ہے۔

اسرائیلی کابینہ کے ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے توسط سے بھجوائی گئی پندرہ نکاتی تجویز میں ایران سے افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے، یورینیم کی افزودگی روکنے، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنے اور علاقائی اتحادیوں کی مالی معاونت بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنی عسکری شکست کو تسلیم نہ کیا تو اسے پہلے سے بھی زیادہ سخت حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسرائیلی دفاعی حکام نے اس معاہدے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ امریکی مذاکرات کار مراعات دے سکتے ہیں، جبکہ اسرائیل اپنے پیشگی حملوں کا حق محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بریفنگ میں بتایا کہ امریکہ نے ایران کے اندر دس ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کے بانوے فیصد بڑے بحری جہاز تباہ اور ڈرون و میزائل حملوں کی شرح میں نوے فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔

میدان جنگ کی صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور اسرائیلی فوج نے ایران میں جہاز سازی کے مراکز سمیت مختلف مقامات پر نئے حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے رہائشی علاقے میں بھی بمباری ہوئی ہے جس کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ کویت اور سعودی عرب نے بھی نئے ڈرون حملوں کو پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

عالمی منڈیوں میں امریکی تجویز کی خبروں کے بعد مثبت رجحان دیکھا گیا اور تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دریں اثنا پینٹاگون خلیج میں ہزاروں اضافی ایئر بورن فوجیوں کو تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ صدر ٹرمپ کو زمینی حملے کا آپشن دیا جا سکے۔ ایرانی حکام نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے علاقے پر حملے جاری رہے تو وہ بحیرہ احمر کے دہانے پر نیا محاذ کھول سکتے ہیں اور آبنائے باب المندب میں سنگین خطرات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی پڑوسی ملک نے ایران کے جزائر پر قبضے کے لیے دشمنوں کا ساتھ دیا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

کانگریس کی منظوری کے خوف سے ٹرمپ ایران کے ساتھ کشیدگی کو ‘جنگ’ قرار دینے سے گریزاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری فوجی…

48 منٹس ago

اسلام آباد میں پانی کی قلت کے خاتمے کے لیے 100 ری چارج کنویں تعمیر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور نظام کو جدید خطوط پر…

54 منٹس ago

دو قومی نظریہ اور پاکستان کو درپیش معاشی و خارجی چیلنجز

پاکستان اس وقت معاشی عدم مساوات کی ایک ایسی خطرناک لہر کی زد میں ہے…

59 منٹس ago

پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ لاہور سے گرفتار

پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب آرگنائزر عالیہ حمزہ کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا…

3 گھنٹے ago

گوگل کے سابق ایگزیکٹو میٹ برٹن بی بی سی کے نئے ڈائریکٹر جنرل مقرر

بی بی سی نے گوگل کے سابق ایگزیکٹو میٹ برٹن کو اپنا نیا ڈائریکٹر جنرل…

3 گھنٹے ago

بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے بامقصد مذاکرات ناگزیر ہیں: ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

کوئٹہ میں نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں…

3 گھنٹے ago