امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی کو جنگ قرار دینے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ اس کے لیے کانگریس کی باقاعدہ منظوری درکار ہوتی ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ کا لفظ اس لیے استعمال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس کے قانونی مضمرات ہیں، اس لیے وہ اسے فوجی آپریشن کا نام دے رہے ہیں۔
آئین کے تحت امریکہ میں جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے جبکہ صدر مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہوتے ہیں۔ وار پاورز ایکٹ کے مطابق کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے 60 دن کے اندر کانگریس کی منظوری لازمی ہے، تاہم صدر ٹرمپ اس قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔
ڈیموکریٹک قانون سازوں نے صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران پر حملے کر کے قانونی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے فوجی کارروائی کو محدود کرنے کے لیے تین مرتبہ ووٹنگ کی کوشش کی لیکن ریپبلکن اراکین کی مخالفت کے باعث یہ قراردادیں ناکام ہو گئیں۔ منگل کو ہونے والی تازہ ترین ووٹنگ میں سینیٹر جان فیٹرمین کے سوا تمام ڈیموکریٹس نے صدر کے اختیارات کو محدود کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ رینڈ پال کے علاوہ تمام ریپبلکنز نے اس کی مخالفت کی۔
سینیٹر کرس مرفی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخ کا ایک غیر معمولی لمحہ ہے جہاں امریکہ ایک غیر ملکی طاقت کے ساتھ حالت جنگ میں ہے، امریکی فوجی ہلاک ہو رہے ہیں اور کانگریس اس حقیقت کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکن پارٹی کا موقف ہے کہ ایرانی میزائلوں سے درپیش خطرات کے پیش نظر یہ فوجی کارروائی آئینی اور قانونی طور پر درست ہے۔ صدر ٹرمپ نے کانگریس کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا ہے کہ انہوں نے بطور کمانڈر ان چیف اپنے آئینی اختیارات کے تحت یہ فیصلہ کیا۔ ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ نہیں بلکہ ایک مخصوص اور واضح مشن ہے۔
ماضی میں بھی امریکی صدور فوجی کارروائیوں کو جنگ قرار دینے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ سن 2011 میں سابق صدر براک اوباما کی جانب سے لیبیا میں فضائی حملوں کے وقت بھی انتظامیہ نے اسے جنگ کے بجائے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک محدود کارروائی قرار دیا تھا۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی عبوری…
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے چھبیس نومبر کو سنگجانی جلسے، سپریم کورٹ…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی کے وسط میں چین کا دورہ کریں گے جہاں ان…
اسلام آباد میں پانی کی قلت پر قابو پانے اور نظام کو جدید خطوط پر…
پاکستان اس وقت معاشی عدم مساوات کی ایک ایسی خطرناک لہر کی زد میں ہے…
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران خلیج میں جاری جنگ کے…