امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کا اشارہ دیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے تہران کی قیادت کے ساتھ براہ راست مذاکرات اور کسی معاہدے کے بغیر بھی تنازع کو سمیٹنے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ پانچ ہفتوں سے جاری اس جنگ کے حوالے سے امریکی بیانات میں تضاد اور غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
بدھ کے روز تنازع میں شدت دیکھی گئی جب کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں ایندھن کے ٹینکوں میں بڑی آگ لگ گئی۔ بحرین میں بھی حکام نے ایک ایرانی حملے کے بعد کمپنی کی تنصیب میں آگ لگنے کی تصدیق کی ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قریب ایک نامعلوم پروجیکٹائل کے حملے سے ایک آئل ٹینکر کو نقصان پہنچا تاہم عملہ محفوظ رہا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ بدھ کی صبح تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ایران کا دفاعی نظام متحرک ہوگیا۔ بندر عباس میں واقع ایران کے سب سے بڑے مسافر ٹرمینل شاہد حقانی پورٹ پر بھی رات گئے فضائی حملہ کیا گیا۔ ڈپٹی گورنر احمد نفیسی نے اسے شہری تنصیبات پر مجرمانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات بڑھ گئے ہیں جو عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ تاہم ٹرمپ کے بیان کے بعد ایشیائی منڈیوں میں اسٹاکس اور بانڈز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس 2.7 فیصد اور نکی 225 انڈیکس 3.9 فیصد تک اوپر گیا۔ وال اسٹریٹ پر بھی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 2.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکی عوام پر بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات کا بوجھ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔ رائٹرز/ایپسوس کے سروے کے مطابق دو تہائی امریکی چاہتے ہیں کہ امریکہ ایران جنگ میں اپنی شمولیت جلد ختم کرے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو کہا کہ انہیں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے پیغامات موصول ہو رہے ہیں لیکن انہیں مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیغامات دھمکیوں یا دوستوں کے ذریعے تبادلہ خیال پر مبنی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے دوران اب تک 800 سے زائد فضائی حملے کیے گئے جن میں 16 ہزار گولہ بارود کا استعمال ہوا اور 5 ہزار نئے اہداف کی نشاندہی کی گئی۔ اسرائیل نے یمن سے داغے گئے میزائل کو روکنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں بیروت کے قریب اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف حزب اللہ کے دو اعلیٰ کمانڈرز تھے، تاہم حزب اللہ کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
پشاور (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران…
گوگل نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز نے…
کریمنیا میں روسی فوج کا اے این 26 طیارہ پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ ہو…
مشرق وسطیٰ میں روزگار کے رجحانات میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے جس کے…
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کی لہر دوڑ گئی، جس کے نتیجے…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اسرائیل…