ترکی کے مغربی صوبے موغلا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ ترک کوسٹ گارڈ کے مطابق حادثہ بدھ کے روز پیش آیا جس کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔
کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ آؤٹ بورڈ موٹر والی یہ کشتی مقامی وقت کے مطابق تین بجے بوڈرم کے ساحل کے قریب دیکھی گئی۔ کشتی کے عملے نے رکنے کے انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم خراب موسم اور سمندری لہروں کے دباؤ کے باعث کشتی پانی میں ڈوب گئی۔
ریسکیو آپریشن کے لیے کوسٹ گارڈ کا ہیلی کاپٹر اور تین کشتیاں جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں۔ حکام کے مطابق اب تک اکیس افراد کو زندہ بچایا جا چکا ہے جبکہ لاپتہ ہونے والوں کی تلاش کا عمل تاحال جاری ہے۔
بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کشتی کہاں سے روانہ ہوئی تھی اور اس کی منزل کیا تھی۔ بحیرہ ایجیئن تارکینِ وطن کے لیے یورپ جانے کا ایک اہم اور خطرناک راستہ سمجھا جاتا ہے جہاں سے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ہزاروں تارکینِ وطن ترکی کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ترکی اس وقت شام، عراق اور افغانستان سے آنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ایران،…
غزہ کے الشفاء ہسپتال سے نومبر 2023 میں نکالے گئے گیارہ شیر خوار بچے طویل…
کریملن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو جنگ کے…
چیک جمہوریہ نے پراگ میں کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ڈنمارک کو پنالٹی…
روس کے زیر قبضہ کریمیا میں ایک فوجی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس…
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے ساتھ ٹیلی فونک…