پوپ لیو کا ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد کے طور پر ظہور

ویٹیکن سٹی میں پوپ لیو کا رویہ تبدیل ہو چکا ہے اور انہوں نے عالمی منظر نامے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے خلاف ایک اہم تنقیدی آواز اٹھائی ہے۔ پوپ لیو، جو گزشتہ مئی میں عالمی کیتھولک چرچ کے سربراہ بنے، اپنی مدت کے ابتدائی دس ماہ تک اپنے آبائی ملک امریکہ اور صدر ٹرمپ کے بارے میں عوامی سطح پر خاموش رہے، تاہم اب یہ پالیسی بدل گئی ہے۔

منگل کے روز پوپ لیو نے پہلی بار عوامی طور پر صدر ٹرمپ کا نام لے کر ان سے ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ختم کرنے کی براہ راست اپیل کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لہجے میں نمایاں تبدیلی ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر ٹرمپ کی پالیسیوں کے لیے ایک توازن پیدا کرنا ہے۔ اطالوی ماہر تعلیم اور ویٹیکن کے امور پر گہری نظر رکھنے والے ماسیمو فاجیولی کے مطابق پوپ کا یہ اقدام اتفاقی نہیں بلکہ انتہائی سوچا سمجھا ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ویٹیکن پر ٹرمپ ازم کے حوالے سے نرم گوشہ رکھنے کا الزام لگے۔

پوپ نے ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے راستہ نکالیں، اس مقصد کے لیے انہوں نے امریکی اصطلاح آف ریمپ کا استعمال کیا تاکہ پیغام واضح طور پر سمجھا جا سکے۔ اس سے قبل پوپ لیو نے ایک سخت بیان میں کہا تھا کہ خدا ان رہنماؤں کی دعائیں مسترد کر دیتا ہے جو جنگ شروع کرتے ہیں اور جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوتے ہیں۔ ان ریمارکس کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے خلاف تنقید سمجھا جا رہا ہے جنہوں نے ایران پر حملوں کے جواز میں مذہبی زبان کا استعمال کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے پوپ کے ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی قیادت یا صدر کا اپنے عوام سے فوجیوں کے لیے دعا کی اپیل کرنا غلط نہیں ہے۔ دوسری جانب کیتھولک امن تحریک کی سابق رہنما میری ڈینس کا کہنا ہے کہ پوپ کے حالیہ بیانات مسلسل تشدد سے ٹوٹے ہوئے دل کی عکاسی کرتے ہیں۔

پوپ لیو گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران جنگ پر تنقید میں تیزی لا رہے ہیں۔ تیرہ مارچ کو انہوں نے کہا تھا کہ جنگ شروع کرنے والے عیسائی سیاسی رہنماؤں کو اعترافِ گناہ کرنا چاہیے، جبکہ تئیس مارچ کو انہوں نے فضائی حملوں کو اندھا دھند قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ ویٹیکن کے سینئر عہدیدار کارڈینل مائیکل زرنی کے مطابق پوپ کی آواز عالمی سطح پر وزن رکھتی ہے کیونکہ وہ مشترکہ مفاد اور کمزور طبقات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔

پوپ لیو نے گزشتہ دسمبر میں امریکی کیتھولک قیادت میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے نیویارک کے آرچ بشپ کارڈینل ٹموتھی ڈولن کو ہٹا کر ان کی جگہ رونالڈ ہکس کو تعینات کیا تھا۔ اب سب کی نظریں ایسٹر کے موقع پر پوپ کے خصوصی پیغام پر ہیں، جس میں وہ دنیا بھر کے لیے ایک اہم بین الاقوامی اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

اسحاق ڈار کی مصر اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، علاقائی تعاون پر اتفاق

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کے روز مصر اور ازبکستان کے…

56 سیکنڈز ago

ایران کے خلاف جنگ قومی مفاد میں ہے، ٹرمپ کا امریکی اہداف کی جلد تکمیل کا عزم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کے حوالے سے قوم…

6 منٹس ago

آسٹریا کا ایران کیخلاف فوجی کارروائی کیلئے امریکی فضائی حدود کے استعمال کی درخواست مسترد

آسٹریا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی…

11 منٹس ago

ٹرمپ کا فرانسیسی صدر اور ان کی اہلیہ پر طنزیہ جملہ، عالمی سطح پر بحث کا آغاز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں…

1 گھنٹہ ago

کراچی میں تیز ہواؤں اور بارش کے دوران مختلف حادثات، 5 افراد جاں بحق

کراچی میں شدید بارش اور تیز ہواؤں کے باعث پیش آنے والے مختلف حادثات میں…

1 گھنٹہ ago

کسی بھی زمینی حملے میں دشمن کا بچنا ناممکن ہے، ایرانی آرمی چیف کی سخت تنبیہ

ایرانی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے ملک کے خلاف…

1 گھنٹہ ago