امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق یہ فیصلہ بونڈی کی کارکردگی پر بڑھتی ہوئی مایوسی کے بعد کیا گیا، جس میں جافری ایپسٹین کیس سے متعلق دستاویزات کو سنبھالنے کا معاملہ سرفہرست تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس بات پر بھی نالاں تھے کہ بونڈی ان کے سیاسی مخالفین اور ناقدین کے خلاف قانونی کارروائیوں میں مطلوبہ تیزی نہیں دکھا رہی تھیں۔ اپنے دورِ ملازمت کے دوران پام بونڈی نے محکمہ انصاف کی وائٹ ہاؤس سے آزادی کی روایتی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے ٹرمپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں جارحانہ کردار ادا کیا۔
پام بونڈی کی مدت ملازمت کے دوران ان پر جافری ایپسٹین کے جنسی استحصال کے مقدمات سے متعلق ریکارڈ کو چھپانے یا اسے غلط طریقے سے نمٹانے کے شدید الزامات عائد کیے گئے۔ اس صورتحال نے صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کیں اور ان کے ایپسٹین کے ساتھ ماضی کے تعلقات پر بھی دوبارہ تنقید شروع ہوگئی۔
اس سے قبل پانچ مارچ کو صدر ٹرمپ نے ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوم کو بھی ان کی انتظامیہ پر تنقید کے بعد عہدے سے برطرف کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بونڈی کی برطرفی کے بعد محکمہ انصاف کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے اور ٹرمپ کے مخالفین کے خلاف قانونی کارروائیوں میں تیزی کا امکان ہے۔
بونڈی پر یہ الزام بھی عائد تھا کہ انہوں نے محکمہ انصاف کے ان درجنوں کیریئر پراسیکیوٹرز کو ملازمت سے فارغ کیا جو ٹرمپ کی ناپسندیدہ تحقیقات پر کام کر رہے تھے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے محکمہ انصاف کی غیر جانبدارانہ ساکھ کو نقصان پہنچا۔
جنوری میں ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران بونڈی نے قانون سازوں کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ان پر جوابی سیاسی حملے کیے، اور اس دوران انہوں نے ایپسٹین کے متاثرین یا ان کے اہل خانہ کی جانب دیکھنے یا معافی مانگنے سے بھی گریز کیا۔
پام بونڈی کو ایوان کی نگرانی کرنے والی کمیٹی نے طلب کر رکھا تھا اور انہیں چودہ اپریل کو اس معاملے پر گواہی دینی تھی۔ تاہم برطرفی کے بعد اب اس پیش رفت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ نومبر میں منظور ہونے والے ایک دو جماعتی قانون کے تحت محکمہ انصاف کو ایپسٹین کیس سے متعلق تقریباً تمام فائلیں جاری کرنے کا پابند بنایا گیا تھا، جس کے بعد تین ملین صفحات پر مشتمل ریکارڈ سامنے لایا گیا، تاہم اس میں کی جانے والی کٹوتیوں اور متاثرین کی شناخت ظاہر ہونے پر شدید احتجاج کیا گیا تھا۔
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تیسرے ہفتے کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر…
پنجاب بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری…
لاہور ہائی کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف متفرق درخواست دائر…
پاکستان نے پہلی بار ٹرانس شپمنٹ کے انتظامات کے تحت بلک اور گاڑیوں کی کارگو…
ٹیلی گرام کے بانی پاول ڈوروو نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ روس کی…
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تصادم کے دوران اپنے…