امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے امریکی فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے تین اعلیٰ حکام نے اس اقدام کی تصدیق کی ہے، جو محکمہ دفاع میں جاری تبدیلیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جنگی حالات کے دوران کسی آرمی چیف کی برطرفی کو غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اکتالیسویں آرمی چیف آف اسٹاف رینڈی جارج فوری طور پر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ بیان میں ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے تاہم ان کی برطرفی کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی گئی۔ جنرل رینڈی جارج کی مدت ملازمت میں ابھی ایک سال سے زائد کا عرصہ باقی تھا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حکام نے بتایا کہ وزیر دفاع نے آرمی ٹرانسفارمیشن اینڈ ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ہڈنی اور آرمی چیپلین کور کے سربراہ میجر جنرل ولیم گرین کو بھی فارغ کر دیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد جنرل کرسٹوفر لا نیو کو عبوری طور پر آرمی چیف کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا رہا ہے اور ایران کے خلاف آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت امریکی فوج کے تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار اہلکار فعال ڈیوٹی پر تعینات ہیں، جن میں اشرافیہ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں فوجی بھی شامل ہیں۔
جنرل رینڈی جارج 2023 میں آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے اور اس سے قبل وہ عراق اور افغانستان میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ پینٹاگون میں جاری حالیہ تبدیلیوں کے دوران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل سی کیو براؤن سمیت دیگر اعلیٰ فوجی قیادت کو بھی عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں رینڈی جارج کی برطرفی کے بارے میں اسی وقت علم ہوا جب اسے عوامی سطح پر ظاہر کیا گیا۔
آرٹیمس ٹو مشن پر روانہ ہونے والا اورائن کیپسول زمین کے مدار سے کامیابی کے…
تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے ملک کے وسطی حصے میں…
پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بڑھتے ہوئے بحرانوں سے نمٹنے اور خطے…
امریکہ میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی رفتار تقریباً رک چکی ہے، جس نے…
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کے روز مندی کا رجحان برقرار رہا اور کاروبار کے…
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نو مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں…