امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی کے لیے علاقائی طاقتوں کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تہران نے ثالثوں کو واضح کر دیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ واشنگٹن کے مطالبات غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل قبول ہیں۔
ایرانی انکار کے بعد ترکی اور مصر سمیت دیگر علاقائی ممالک مذاکرات کے لیے متبادل مقامات کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے قطر اور استنبول کو ممکنہ مراکز کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے۔
اس سفارتی تعطل کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سینئر سفارت کار عباس عراقچی کی حالیہ عوامی مصروفیات کو تہران کی جانب سے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سفارتی بحران کے باوجود ملکی سطح پر اپنی حمایت کو مستحکم ظاہر کرنا ہے۔
امریکی محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی حراست میں ہلاک ہونے والے انیس سالہ میکسیکن…
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن آج کی عالمی سیاست میں ایک ایسے رہنما کے طور پر…
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ امریکا…
پاکستان سپر لیگ کے دلچسپ مقابلے میں ملتان سلطانز نے قذافی اسٹیڈیم میں کوئٹہ گلیڈی…
جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم…
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی ایک…