آسٹریا کی وزارت خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان میں شہری تنصیبات پر حملے فوری طور پر بند کرے۔ ویانا کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین میں اسرائیل کے قریبی حلیف سمجھے جانے والے اس ملک نے اپنے امن دستوں کی حفاظت پر بھی زور دیا ہے۔
خبر رساں ادارے کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آسٹرین وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو لبنان میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں بلا تاخیر روکنا ہوں گی۔
گزشتہ روز اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کیے گئے شدید ترین فضائی حملوں کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے آسٹریا نے کہا کہ وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع اور دس لاکھ سے زائد افراد کے بے گھر ہونے سے پیدا ہونے والی انسانی تباہی پر شدید فکرمند ہے۔
اقوام متحدہ کے امن مشن (یونیفل) میں آسٹریا کے تقریباً 160 فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ دستہ لاجسٹکس، گاڑیوں کی مرمت، ایندھن کی فراہمی اور آگ بجھانے جیسے امور میں مصروف ہے۔ آسٹرین وزارت خارجہ نے اعادہ کیا کہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ اپنے امن دستوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے۔
سفارتی سطح پر آسٹریا نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو لبنان تک بڑھانے کے بجائے نومبر 2024 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین طے پانے والی جنگ بندی کی بحالی پر زور دیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد سے یورپی ممالک کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں نو اپریل دو ہزار چھبیس کو جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ریپبلکن ارکان نے کانگریس میں حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹس…
لندن کے ایک پب سے لاکھوں پاؤنڈ مالیت کا فیبرجے انڈا اور گھڑی چوری کرنے…
لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے آغاز کی تصدیق…
کراچی کی ایک عدالت نے طبی غفلت کے باعث خاتون کی ہلاکت کے مقدمے میں…
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بیروت کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا…