اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مابین انتہائی اہم مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے، جن میں دونوں ممالک نے متضاد اور سخت شرائط عائد کر دی ہیں، جس کے باعث وسیع تر جنگ بندی کے امکانات غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
امریکی حکام نے مذاکرات سے قبل دو بنیادی مقاصد کا تعین کیا ہے۔ پہلا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا ہے، جو واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کی دیرینہ ترجیح ہے۔ دوسرا اہم مقصد آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس تزویراتی گزرگاہ پر ایران کے کنٹرول پر گہری تشویش رکھتی ہے جہاں فیس اور دیگر شرائط کے ذریعے آمدورفت کو محدود کیا گیا ہے۔ امریکی وفد کا ماننا ہے کہ اس راستے کو بحال کرنا عالمی توانائی کی ترسیل کے استحکام اور اکیس اپریل کو ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع کے لیے ناگزیر ہے۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ پیشگی رعایتوں کے بغیر بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ تہران کے وفد کی قیادت کرنے والے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے لبنان میں فوری جنگ بندی اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا انحصار تمام محاذوں پر جارحیت کے خاتمے پر ہے، جس میں لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ اس وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت سیکیورٹی اور اقتصادی امور کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔
محمد باقر قالیباف نے امریکا پر گہرے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مذاکرات کے بعد فوجی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تہران صرف اسی صورت میں بات چیت کرے گا جب واشنگٹن ایک حقیقی معاہدے کا عزم ظاہر کرے گا اور ایران کے حقوق کو تسلیم کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کو تاخیری حربے یا فریب کے طور پر استعمال کیا گیا تو ایران اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی صلاحیتوں پر انحصار کرے گا۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جس میں اعلیٰ سفارت کار بھی شامل ہیں۔ دونوں فریقین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان کے متضاد مطالبات میں کوئی مفاہمت ممکن ہے یا نہیں۔ ایک جانب امریکا کی توجہ ایرانی جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی بحالی پر مرکوز ہے، جبکہ دوسری جانب تہران پابندیوں کے خاتمے اور لبنان میں اسرائیلی حملے رکوانے پر بضد ہے۔ ان بنیادی اختلافات کے پیش نظر مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ…
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرتے ہوئے ہفتے…
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد ایران کے…
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ دفتر خارجہ…
بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور تائیوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت…
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ماضی میں امریکہ کے…