امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے، ‘اسلام آباد مذاکرات’ کا آغاز

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق امریکی وفد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اسلام آباد ٹاکس 2026 میں شرکت کرے گا۔ امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد پہنچنے پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی ناظم الامور نتالی بیکر نے امریکی وفد کا استقبال کیا۔

روانگی سے قبل اپنے بیان میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کا منتظر ہے اور اسے توقع ہے کہ یہ عمل مثبت ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایرانی خلوص نیت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو یہ اچھی بات ہے، تاہم اگر انہوں نے دھوکا دینے کی کوشش کی تو ہماری مذاکراتی ٹیم سخت موقف اپنائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر نے ہمیں واضح ہدایات دی ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ مذاکرات کس سمت بڑھتے ہیں۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان چھ ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اس تنازع کے باعث ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جو جمعہ کی شب اسلام آباد پہنچے۔ ایرانی وفد کا استقبال وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر داخلہ محسن نقوی اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں بات چیت کریں گے۔ پاکستان نے تنازع کے پائیدار حل کے لیے اپنا کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اسلام آباد کو مذاکرات کے پیش نظر سخت سیکیورٹی حصار میں لے لیا گیا ہے اور اہم شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔ مذاکرات انتہائی خفیہ مقام پر منعقد کیے جائیں گے۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان خطے میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ گزشتہ ماہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد تہران نے جوابی کارروائی کی تھی۔ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ہمراہ چار فریقی اجلاس بھی منعقد کیا تھا۔

اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی قائم ہے جس کا مقصد فوجی کارروائیاں روکنا اور آبنائے ہرمز جیسے اسٹریٹجک راستے کھولنا ہے۔ مذاکرات کا مرکز ایران کی دس نکاتی تجویز ہے جس میں عدم جارحیت، پابندیوں کا خاتمہ اور دشمنی کا خاتمہ شامل ہے۔ پاکستان اس عارضی جنگ بندی کو دیرپا امن میں بدلنے کے لیے کوشاں ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

اسلام آباد مذاکرات: پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان تعمیری رابطوں کی امید

اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اہم مذاکرات کا آغاز ہو…

35 منٹس ago

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات: اہم نکات کیا ہیں؟

اسلام آباد میں ہفتے کے روز اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان اہم مذاکرات…

43 منٹس ago

اسلام آباد مذاکرات خطے میں پائیدار امن کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اسلام آباد میں جاری مذاکرات…

2 گھنٹے ago

چھ ہفتوں کی کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاریاں

امریکا اور ایران انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار اعلیٰ ترین…

2 گھنٹے ago

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، رہائشی عمارت تباہ، 3 افراد جاں بحق

اسرائیلی طیاروں نے ہفتے کی صبح لبنان پر فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع…

2 گھنٹے ago

ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے سوا کوئی کارڈ نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ…

2 گھنٹے ago