ہیٹی کے شمالی علاقے میں واقع تاریخی قلعے لافیریئر سیٹاڈل میں بھگدڑ مچنے سے کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
شمالی ہیٹی کے محکمہ سول پروٹیکشن کے سربراہ جین ہنری پیٹ کے مطابق یہ المناک واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا۔ یہ قلعہ انیسویں صدی کے اوائل میں ہیٹی کی فرانس سے آزادی کے فوراً بعد تعمیر کیا گیا تھا اور یہ ملک کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
واقعے کے وقت قلعے میں طلباء اور سیاحوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اس مقام پر سالانہ تقریبات میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھگدڑ قلعے کے داخلی دروازے پر مچی، جبکہ بارش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
ہیٹی کے وزیراعظم ایلکس ڈیڈیئر فِلس ایمے نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے اس بات کی تصدیق کی کہ تقریبات میں بڑی تعداد میں نوجوان موجود تھے تاہم ہلاک شدگان کی شناخت اور تعداد کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ہیٹی پہلے ہی گینگ تشدد اور سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن جیسی سنگین صورتحال سے نبرد آزما ہے۔ جزیرہ نما ملک میں حالیہ برسوں کے دوران دیگر بڑے سانحات بھی رونما ہو چکے ہیں، جن میں 2024 میں فیول ٹینک دھماکہ، 2021 میں فیول ٹینک کا ایک اور دھماکہ جس میں 90 افراد ہلاک ہوئے، اور اسی سال آنے والا تباہ کن زلزلہ شامل ہے جس میں تقریباً 2 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
مذاکرات اور جنگ بندی کے باوجود، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی امریکی عوام کے لیے…
اسلام آباد میں غیر ملکی معززین کی آمد کے پیش نظر کیے گئے سکیورٹی انتظامات…
جنوبی لبنان کے گاؤں سریفا میں اسرائیلی فضائی حملے نے ایک ہی خاندان کی خوشیاں…
معروف گلوکار بلال مقصود نے طویل وقفے کے بعد موسیقی کی دنیا میں واپسی کرتے…
روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر کریملن کی جانب…
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل…