ہنگری میں عام انتخابات: وکٹر اوربان کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ متوقع

ہنگری میں اتوار کے روز عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے جو وزیراعظم وکٹر اوربان کے 16 سالہ اقتدار کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس انتخابی مقابلے کو نہ صرف روس بلکہ مغربی ممالک اور بالخصوص امریکہ کے سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

قوم پرست رہنما 62 سالہ وکٹر اوربان طویل عرصے سے اقتدار میں ہیں، تاہم گزشتہ تین برسوں کے دوران معاشی جمود، مہنگائی میں اضافے اور حکومتی حلقوں میں بدعنوانی کی رپورٹس نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

انتخابی جائزوں کے مطابق اپوزیشن لیڈر پیٹر میگیار کی سینٹر رائٹ جماعت ٹیزا پارٹی حکمران جماعت فیڈز پر 7 سے 9 فیصد کی سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔ ٹیزا پارٹی کی مقبولیت 38 سے 41 فیصد کے درمیان بتائی جا رہی ہے جبکہ مبصرین کا اندازہ ہے کہ ٹرن آؤٹ 70 فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے۔

اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پیٹر میگیار نے کہا کہ ہنگری کے عوام آج تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی انتخابی بے قاعدگی کی اطلاع دیں اور خبردار کیا کہ انتخابی دھاندلی ایک سنگین جرم ہے۔ میگیار نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرے گی جس سے آئینی ترامیم کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

دوسری جانب وزیراعظم وکٹر اوربان نے بھی اپنے حلقے میں ووٹ کاسٹ کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جیت کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہنگری میں آئین کی پاسداری ضروری ہے اور عوام کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔

انتخابات کے حوالے سے رائے دہندگان کی آراء منقسم ہیں۔ کچھ ووٹرز کا ماننا ہے کہ ملک کو مغربی سمت کی طرف واپس لوٹنے اور تبدیلی کی ضرورت ہے، جبکہ دیگر ووٹرز یوکرین جنگ کے تناظر میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے تسلسل کے حق میں ہیں۔

یورپی یونین کے حکام بھی ان انتخابات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وکٹر اوربان کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ اوربان کی شکست روس کے لیے یورپی یونین میں ایک بڑے سفارتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے یورپی یونین قرضے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جسے ہنگری کے وزیراعظم نے اب تک روک رکھا تھا۔

اگرچہ ٹیزا پارٹی پولنگ میں آگے ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج غیر یقینی ہو سکتے ہیں۔ انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی اور حکمران جماعت کا اثر و رسوخ کسی بھی جانب نتیجے کو موڑ سکتا ہے۔ پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے تک جاری رہے گا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایران کو ٹیکس دینے والے جہازوں کو روکنے کا اعلان

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز…

27 منٹس ago

اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں فوری بحری ناکہ بندی کا حکم

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر اسلام آباد…

34 منٹس ago

لیاری کو پیرس بنانے کا وعدہ 18 سال سے تشنہ تکمیل ہے، منعم ظفر

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا ہے کہ لیاری کو پیرس بنانے کے…

39 منٹس ago

اسلام آباد میں امریکا-ایران مذاکرات پر روسی اور ایرانی صدور کا ٹیلی فونک رابطہ

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا…

45 منٹس ago

جنوبی لبنان: والد کی تدفین کے دوران اسرائیلی حملے میں شیر خوار بچی جاں بحق

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے نے سات سالہ ایلین سعید کی زندگی کو خون…

51 منٹس ago

امریکی عوام کا ایران کے حوالے سے امریکی اہداف کے حصول پر عدم اطمینان اور تشویش کا اظہار

مذاکرات اور جنگ بندی کے باوجود، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی امریکی عوام کے لیے…

2 گھنٹے ago