-Advertisement-

انڈمان سمندر میں روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی ڈوب گئی، 250 افراد لاپتہ

تازہ ترین

ایران سے مزید 20 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

کوئٹہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ پینتالیسویں روز بھی جاری...
-Advertisement-

اقوام متحدہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق انڈمان کے سمندر میں کشتی الٹنے سے بچوں سمیت کم از کم ڈھائی سو افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں روہنگیا پناہ گزین اور بنگلہ دیشی شہری سوار تھے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق بنگلہ دیش کے علاقے ٹیکناف سے ملائیشیا جانے والی یہ کشتی تیز ہواؤں، سمندری طغیانی اور گنجائش سے زائد مسافروں کے باعث ڈوب گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی میں تقریباً دو سو اسی افراد سوار تھے اور یہ چار اپریل کو بنگلہ دیش سے روانہ ہوئی تھی۔ بنگلہ دیش کوسٹ گارڈ کے ترجمان لیفٹیننٹ کمانڈر شبیر عالم سوجن نے بتایا کہ نو اپریل کو انڈمان جزائر کے قریب گہرے پانیوں میں بنگلہ دیشی پرچم بردار جہاز ایم ٹی میگھنا پرائیڈ نے ڈرموں اور لکڑیوں کے سہارے تیرنے والے نو افراد کو بحفاظت نکال لیا تھا۔

واقعے میں بچ جانے والے چالیس سالہ رفیق الاسلام نے بتایا کہ انسانی سمگلروں نے انہیں ملائیشیا میں نوکری کا جھانسہ دے کر کشتی میں سوار کیا تھا۔ رفیق الاسلام کے مطابق کشتی چار دن تک سفر کرتی رہی جس کے دوران کچھ مسافر ہلاک بھی ہو گئے تھے، جبکہ حادثے کے بعد وہ چھتیس گھنٹے تک سمندر میں تیرتے رہے۔

یہ افراد بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں قائم پناہ گزین کیمپوں سے نقل مکانی کر رہے تھے، جہاں میانمار کی ریاست رخائن سے آنے والے دس لاکھ سے زائد روہنگیا انتہائی کسمپرسی کی حالت میں مقیم ہیں۔ رخائن میں میانمار کی فوج اور اراکان آرمی کے درمیان جاری شدید لڑائی کے باعث لاکھوں افراد اپنی جانیں بچا کر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ روہنگیا بحران کے دیرپا حل نہ ہونے کے سنگین نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار میں نقل مکانی کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ روہنگیا پناہ گزین باعزت اور محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس مئی میں بھی میانمار کے ساحل کے قریب دو مختلف کشتیوں کے حادثات میں چار سو ستائیس روہنگیا افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -