-Advertisement-

مشرقی بحر الکاہل میں امریکی کارروائی، منشیات بردار کشتی پر حملے میں 4 افراد ہلاک

تازہ ترین

زنجبار میں امریکی انفلوئنسر کی پراسرار موت، لواحقین کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ

نیو جرسی سے تعلق رکھنے والی ایک امریکی فیملی اپنی بیٹی کی بیرونِ ملک پراسرار موت کے بعد انصاف...
-Advertisement-

مشرقی بحر الکاہل میں امریکی فوج کی جانب سے منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبہے میں ایک اور کشتی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ رواں ہفتے کے دوران اس نوعیت کا چوتھا حملہ ہے۔ امریکی سدرن کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ فضائی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کشتی سمندر میں موجود ہے جسے ایک پروجیکٹائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہ دھماکے سے تباہ ہو گئی۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ تمام نشانہ بنائی جانے والی کشتیاں نامزد دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال تھیں اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر یہ ثابت ہوا کہ یہ بحری جہاز منشیات کی ترسیل کے معروف راستوں پر متحرک تھے۔ تاہم امریکی فوج کی جانب سے ان دعووں کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ پیر کے روز ہونے والے ایک اور حملے میں دو افراد کی ہلاکت کے حوالے سے سوال پر امریکی سدرن کمانڈ کے ترجمان نے کہا کہ آپریشنل سیکیورٹی کے پیش نظر مخصوص ذرائع اور طریقہ کار پر بات نہیں کی جا سکتی۔

ستمبر کے اوائل سے جاری ان کارروائیوں کے دوران اب تک ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 175 تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ نے ہفتے کے روز کیے گئے حملے کے بعد ایک لاپتہ شخص کی تلاش کا عمل بھی معطل کر دیا ہے۔ اب تک کم از کم چھ واقعات میں حملوں کے دوران کچھ افراد زندہ بچ گئے تھے جن کی تلاش اور ریسکیو کے لیے کوششیں کی گئیں۔ اکتوبر میں ایک آپریشن کے دوران امریکی نیوی کے ہیلی کاپٹر نے دو زندہ بچ جانے والوں کو نکال کر ایکواڈور اور کولمبیا منتقل کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی اس متنازع مہم کے دوران دو ستمبر کو ہونے والے پہلے حملے میں دو افراد زندہ بچ گئے تھے جنہیں بعد ازاں ایک اور حملے میں نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے پر تنقید کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دینے کے مطالبات بھی سامنے آئے تھے۔

دوسری جانب ناقدین ان حملوں کی قانونی حیثیت اور افادیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں جان لیوا اوور ڈوز کا سبب بننے والی فینٹانل کی بڑی مقدار میکسیکو کے راستے زمینی سرحدوں سے سمگل کی جاتی ہے، جہاں یہ چین اور بھارت سے درآمد شدہ کیمیکلز سے تیار کی جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکہ لاطینی امریکہ میں کارٹلز کے ساتھ مسلح تنازع میں ہے اور یہ حملے منشیات کی ترسیل روکنے کے لیے ضروری ہیں، تاہم ان کی انتظامیہ کی جانب سے ہلاک شدگان کے نارکو ٹیررسٹ ہونے کے دعووں کے حق میں شواہد کا فقدان ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -