-Advertisement-

ایران سے معاہدہ طے پایا تو اسلام آباد کا دورہ کر سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

تازہ ترین

امریکی حملے کا خدشہ: کیوبا کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار، صدر ڈیاز کینل

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ممکنہ امریکی حملے...
-Advertisement-

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ اسلام آباد میں طے پایا اور دستخط کیے گئے تو وہ پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے پرامید لہجہ اختیار کیا اور دعویٰ کیا کہ تہران تقریباً تمام معاملات پر رضامند ہو چکا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے ختم ہونے والی امریکی ایرانی جنگ بندی میں توسیع کر سکتے ہیں تاہم اس کی ضرورت پیش نہ آنے کا بھی امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ اسلام آباد میں ہوا تو وہ وہاں جانے کے لیے تیار ہیں کیونکہ فریقین انہیں وہاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے گزشتہ برس امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے بچائی گئی افزودہ یورینیم کو حوالے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ممکنہ ایران جنگ بندی معاہدے کی سہولت کاری میں ادا کیے گئے کردار کی دوبارہ تعریف کی۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ تنازع شروع ہونے کا خدشہ ہے تاہم انہیں مذاکرات کی کامیابی کی مکمل امید ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی دس روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے جس میں حزب اللہ بھی شامل ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ دنیا بھر میں دس جنگیں رکوانے میں مدد کر چکے ہیں۔ ویٹیکن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پوپ لیو سے ملاقات کو ضروری نہیں سمجھتے تاہم ان کا ماننا ہے کہ پوپ کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایران ایک عالمی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -