-Advertisement-

امریکی دھمکیوں کے بعد کیوبا کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے

تازہ ترین

وفاقی حکومت کا سول سرونٹس کنڈکٹ رولز میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کے ضابطہ اخلاق میں بڑی تبدیلیاں متعارف کروا دی ہیں۔ وزیراعظم کی منظوری کے...
-Advertisement-

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا کے خلاف بڑھتے ہوئے جارحانہ بیانات کے بعد صدر ڈیاز کینل نے کہا ہے کہ اگرچہ وہ تصادم نہیں چاہتے، لیکن ملکی دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

کیوبا کے صدر نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالات انتہائی تشویشناک ہیں اور انہیں 16 اپریل 1961 کے واقعات کی یاد دلاتے ہیں جب قوم کو شدید خطرات کا سامنا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیوبا کسی بھی عسکری جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے، کیونکہ یہ ان کا فرض ہے کہ وہ خطرات کو ٹالیں اور اگر جنگ ناگزیر ہو تو اسے شکست دیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے معاملے سے نمٹنے کے بعد ان کی انتظامیہ کی توجہ کیوبا پر مرکوز ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کیوبا کو ایک ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے اسے طویل عرصے سے بدترین حکمرانی کا شکار ملک کہا۔ اس سے قبل ٹرمپ نے جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے موقع پر بھی کیوبا کو خبردار کیا تھا کہ انہیں فکرمند رہنا چاہیے۔

امریکی صدر نے مارچ میں وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کسی نہ کسی شکل میں کیوبا پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعزاز مل سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر بھی پابندیوں کی دھمکی دی گئی ہے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کیوبا کی حکومت کو غیر مؤثر اور ظالم قرار دیا ہے۔

صدر ڈیاز کینل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کوئی ناکام ریاست نہیں بلکہ ایک محصور ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اقتصادی جنگ اور توانائی کے بلاکڈ جیسی کثیر الجہتی جارحیت کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ کیوبا ایک ایسی ریاست ہے جو جھکتی نہیں، مزاحمت کرتی ہے اور آخر کار کامیاب ہوگی۔

کیوبا کو گزشتہ پانچ برسوں سے شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے، جس میں کورونا وائرس کی وبا اور امریکی پابندیوں نے مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ امریکا کی جانب سے وینزویلا، میکسیکو اور روس سے تیل کی ترسیل روکنے کے اقدامات کے نتیجے میں کیوبا میں ایندھن کی شدید قلت اور طویل لوڈشیڈنگ کے مسائل پیدا ہو چکے ہیں، جس پر ماہرین نے انسانی بحران کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

یہ ریلی آنجہانی رہنما فیڈل کاسترو کی تاریخی تقریر کی 65 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کے اشارے تو ملے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -