کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ہوانا میں بے آف پگز پر امریکی حملے کی 65 ویں برسی کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیوبا تصادم نہیں چاہتا، تاہم اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا ان کا فرض ہے۔
صدر ڈیاز کینل نے کہا کہ اگر جنگ ناگزیر ہوئی تو کیوبا اسے جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ اور دھمکیوں کے تناظر میں ملک کی دفاعی تیاریوں کو ناگزیر قرار دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن اور ہوانا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
سابق صدر راؤل کاسترو کی صاحبزادی ماریلا کاسترو کا کہنا ہے کہ کیوبا امریکا کے ساتھ بات چیت کا خواہاں ہے، لیکن اپنے سیاسی نظام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق راؤل کاسترو کے پوتے کرنل راؤل روڈریگز کاسترو بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔
صدر ڈیاز کینل نے ملک کو درپیش موجودہ حالات کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے کیوبا کو ناکام ریاست قرار دینے کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا ناکام نہیں بلکہ ایک محصور ریاست ہے۔ انہوں نے معاشی اور توانائی کے حالیہ بحران کا ذمہ دار طویل عرصے سے جاری امریکی تجارتی پابندیوں اور تیل کی ناکہ بندی کو ٹھہرایا۔
سن 1961 میں بے آف پگز کے مقام پر سی آئی اے کی مدد سے ہونے والے حملے کو یاد کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ کیوبا نے ماضی میں بھی امریکی جارحیت کو ناکام بنایا تھا اور آج بھی عوام اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر قیمت چکانے کو تیار ہیں۔ 82 سالہ ماریہ ریگیرو سمیت ریلی میں شریک ہزاروں کیوبن شہریوں نے بھی عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے ملک کی آزادی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔
