-Advertisement-

نیٹو کا شیرازہ نہیں بکھرے گا، امریکہ اتحادیوں کا دفاع کرے گا، اسٹونین وزیر دفاع

تازہ ترین

نائیجیریا: امتحانات کے لیے جانے والے طلبہ کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا

نائجیریا کی ریاست بینیو میں مسلح افراد نے یونیورسٹی کے داخلہ امتحانات کے لیے جانے والے سیکنڈری اسکول کے...
-Advertisement-

نیٹو کے رکن ملک ایسٹونیا کے وزیر دفاع ہانو پیوکر نے کہا ہے کہ انہیں اس بات پر کوئی شک نہیں کہ اگر روس نے ان کے ملک پر حملہ کیا تو امریکا اس کے دفاع میں مدد کرے گا۔ لیتھوانیا کے دارالحکومت ولنیئس میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ انہیں امریکا اور دیگر اتحادیوں پر مکمل اعتماد ہے اور نیٹو اتحاد کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ فی الحال یورپ تنہا عسکری طور پر روس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نیٹو کے تمام رکن ممالک کو اپنے دفاعی بجٹ میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ ہانو پیوکر کے مطابق زیادہ تر رکن ممالک گزشتہ برس طے پانے والے اس معاہدے پر عمل نہیں کر رہے جس کے تحت مجموعی ملکی پیداوار کا پانچ فیصد دفاع پر خرچ کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

ایسٹونیا رواں برس اپنی جی ڈی پی کا پانچ اعشاریہ ایک فیصد دفاع پر خرچ کر رہا ہے جو نیٹو میں سب سے زیادہ شرحوں میں سے ایک ہے۔ پیوکر نے نیٹو کے اندر موجود حالیہ کشیدگی کو ایک طویل ازدواجی تعلق سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی رشتے میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اور مسائل کو مل کر حل کرنا پڑتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو سے انخلا کی دھمکیوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکا کو یورپ کی عسکری طاقت کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی یورپ کو امریکا کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کو ایران کے معاملے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ امریکا یوکرین کے محاذ پر زیادہ دھیان دے سکے۔

ایسٹونیا کی انٹیلی جنس نے فروری میں خبردار کیا تھا کہ روس یوکرین تنازع کے بعد مستقبل کی جنگوں کے لیے گولہ بارود کے ذخیرے جمع کر رہا ہے، تاہم روس یورپی رہنماؤں کے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر چکا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -