واشنگٹن میں جاری عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے موسم بہار کے اجلاسوں کے دوران ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری تنازع کے اثرات خطے سے باہر بھی انتہائی سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر توانائی اور خوراک درآمد کرنے والے ممالک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے۔
آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر برائے افریقہ، ابیبے سیلاسی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تیل کی درآمد کنندہ اور کم وسائل والی ریاستوں کے تجارتی توازن بگڑ رہے ہیں اور مہنگائی میں اضافے سے عوام کی قوت خرید ختم ہو رہی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ انسانی سطح پر اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق سب صحارا افریقہ میں دو کروڑ افراد بھوک کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں۔ ساحل کے خطے میں کھاد کی قلت اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے نے خوراک کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی امداد میں متواتر کمی بھی ایک بڑا تشویشناک پہلو ہے، کیونکہ کئی غریب ممالک اپنے صحت اور خوراک کے بجٹ کے لیے اسی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔
ایشیا پیسیفک خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کرشنا سری نواسن نے کہا کہ چھوٹے جزائر اور ملائیشیا، تھائی لینڈ جیسے ممالک اپنی جی ڈی پی کا دس فیصد تک حصہ تیل اور گیس کی درآمد پر خرچ کر رہے ہیں، جو انہیں عالمی منڈی کے جھٹکوں کے لیے انتہائی غیر محفوظ بناتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ریجنل ڈائریکٹر جہاد ازور نے کہا کہ خطے کی معاشی نمو کے تخمینوں میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سے سب سے بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ یمن، سوڈان اور صومالیہ جیسے ممالک میں خوراک کی درآمدات کل درآمدات کا 45 سے 50 فیصد تک ہیں، جہاں پہلے ہی نصف سے زائد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔
آئی ایم ایف حکام نے زور دیا ہے کہ متاثرہ ممالک کی حکومتیں اپنے محدود بجٹ کو بچانے کے لیے صرف عارضی اور ہنگامی نوعیت کے اقدامات اٹھائیں تاکہ طویل مدتی معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
