-Advertisement-

ویلز کے قلعے کے نیچے قدیم غار اور ہپوپوٹیمس کی باقیات دریافت، ماہرین اسے تاریخی کامیابی قرار دیتے ہیں

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی بحالی: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کا شکریہ ادا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا...
-Advertisement-

ویلز کے تاریخی پیمبروک کیسل کے نیچے دریافت ہونے والی ایک قدیم غار اور اس میں موجود دریائی گھوڑے کی باقیات نے برطانوی تاریخ کے بارے میں ماہرین کے نظریات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ محققین نے جمعرات کو اس مقام کو زندگی میں ایک بار ملنے والی منفرد دریافت قرار دیا ہے۔

گیارہویں صدی کے اس قلعے میں واقع ووگن غار تک رسائی کے لیے ایک سرپل سیڑھی موجود ہے، جس کے اندر پانچ سالہ تحقیقی منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی آف ایبرڈین کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق کے مرکزی رہنما روب ڈینس کا کہنا ہے کہ یہ برطانیہ میں اپنی نوعیت کا واحد مقام ہے جو قدیم انسانی تاریخ کا ایک اہم ترین ذخیرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ابتدائی شواہد سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس غار میں ہومو سیپینز کے نایاب آثار کے ساتھ ساتھ نینڈرتھل انسانوں کے قیام کے بھی شواہد موجود ہیں۔ محققین کو یہاں ایک لاکھ بیس ہزار سال پرانی دریائی گھوڑے کی ہڈیاں ملی ہیں، جبکہ اس سے قبل ہونے والی کھدائیوں میں میمتھ، اونی گینڈے، قطبی ہرن اور جنگلی گھوڑوں کی باقیات کے ساتھ ساتھ پتھر کے اوزار بھی دریافت ہوئے تھے۔

پروفیسر کیٹ برٹن کے مطابق غار میں ہڈیوں کا بہتر حالت میں محفوظ ہونا ہمیں قدیم ماحول اور ماحولیاتی نظام کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ یہ مقام گیارہ ہزار پانچ سو سال قبل برفانی دور کے اختتام سے لے کر پینتیس سے پینتالیس ہزار سال قبل کے ہومو سیپینز اور اس سے بھی قدیم نینڈرتھل دور تک کی انسانی سرگرمیوں کا تسلسل بیان کرتا ہے۔

پیمبروک کیسل کے منیجر جون ولیمز نے اس پیش رفت کو قلعے کی تاریخ کے لیے ایک نیا باب قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ قلعہ سن 1457 میں ہنری ہفتم کی جائے پیدائش کے طور پر بھی عالمی شہرت رکھتا ہے۔ مئی میں شروع ہونے والی بڑے پیمانے پر کھدائی سے محققین کو قدیم موسمیاتی تبدیلیوں اور معدوم ہونے والی انواع کے بارے میں مزید اہم معلومات ملنے کی توقع ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -