ایران نے اعلان کیا ہے کہ لبنان میں جاری جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھلی رہے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں تصدیق کی کہ سمندری ٹریفک بغیر کسی تعطل کے جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے طے کردہ راستوں پر تمام تجارتی جہازوں کی نقل و حمل بلا روک ٹوک جاری رہے گی۔
تہران کے اس اقدام کو خطے میں کشیدگی کے دوران عالمی توانائی کی ترسیل کے اس اہم ترین راستے پر استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم کوریڈور کی حیثیت رکھتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں تشویش کا باعث بنتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر کھلا اور جہاز رانی کے لیے تیار قرار دیا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں واضح کیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کے ساتھ ان کا معاملہ سو فیصد مکمل نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل جلد مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پر پہلے ہی بات چیت ہو چکی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نو فیصد تک کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 11 اعشاریہ 12 ڈالر یا 11 اعشاریہ 2 فیصد کی گراوٹ کے بعد 88 اعشاریہ 27 ڈالر فی بیرل پر آ گئے جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 11 اعشاریہ 40 ڈالر یا 12 فیصد کمی کے ساتھ 83 اعشاریہ 29 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی ہم منصب جوزف عون سے بات چیت کے بعد جمعرات سے دس روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وانس، سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور اعلیٰ امریکی فوجی افسر ڈین کین کو ہدایت کی ہے کہ وہ پائیدار امن کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں۔ لبنان دو مارچ کو اس وقت مشرق وسطیٰ کی جنگ کی لپیٹ میں آیا جب ایران حمایت یافتہ حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی زمینی افواج نے ملک کے جنوبی حصے میں کارروائی بھی کی ہے۔
