-Advertisement-

آبنائے ہرمز کی بحالی: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کا شکریہ ادا

تازہ ترین

تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان سے اظہارِ تشکر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز، ایران کے ساتھ معاہدے اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال میں اہم...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ پیش رفت لبنان میں جنگ بندی کے بعد سامنے آئی ہے جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں خلل کے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ایران نے اہم آبی گزرگاہ کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھول دیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ توانائی کی ترسیل کے اس اہم ترین راستے کی بحالی عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز سے آمدورفت بحال ہو گئی ہے تاہم ایران سے منسلک بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک دونوں ممالک کے مابین جاری مذاکرات حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ تمام تجارتی بحری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ لبنان میں ہونے والی جنگ بندی کے تناظر میں کیا گیا ہے جس کے تحت اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ گروپوں کے درمیان لڑائی عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔ عراقچی کے مطابق یہ جنگ بندی 10 روز تک جاری رہے گی اور اس دوران تجارتی جہازوں کی نقل و حمل بلاتعطل جاری رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہازوں کو محفوظ گزرگاہ کے لیے ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے مقرر کردہ راستوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

آبنائے ہرمز دنیا کے پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی و اسرائیلی فوجی مہم کے بعد اس گزرگاہ کی بندش سے عالمی منڈیوں میں توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم تازہ ترین پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی عالمی معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی صدر نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ دور کی میزبانی پاکستان کر سکتا ہے۔ تاہم ان مذاکرات کی حتمی تاریخ کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -