ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کے لیے تاحال کوئی تاریخ طے نہیں پا سکی ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے ہفتے کے روز ترکی کے صوبے انطالیہ میں ایک سفارتی فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے قبل ایک باہمی مفاہمت کے فریم ورک پر اتفاق رائے ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران ایسے کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گا جو ناکامی سے دوچار ہو یا جس کے نتیجے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، کسی تاریخ کا تعین ممکن نہیں ہے۔
سعید خطیب زادہ نے بتایا کہ گزشتہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی تھی، تاہم امریکی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر غیر لچکدار رویہ اور ایران کو بین الاقوامی قوانین سے مستثنیٰ قرار دینے کی کوششوں کے باعث معاہدہ طے نہ پا سکا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہ کر ہی کسی بھی ذمہ داری کا پابند ہوگا۔
اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فریقین کے مابین کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں مشکلات درپیش رہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے امکانات پر دیے گئے بیان کے برعکس، ایرانی حکام کا موقف ہے کہ جب تک بنیادی شرائط پر اتفاق نہیں ہوتا، بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔
آبنائے ہرمز کے معاملے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم امریکی رویے نے اس معاہدے کو سبوتاژ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کرے گا اور اپنے وعدوں سے منحرف ہوگا تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔
