شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل کی جانب ایک بار پھر متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ جنوبی کوریا اور جاپان کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ بیانات کے مطابق، پیانگ یانگ کی جانب سے رواں برس یہ ساتواں اور اپریل کے مہینے میں چوتھا میزائل تجربہ ہے۔
جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ یہ میزائل مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بج کر دس منٹ پر شمالی کوریا کے شہر سنپو کے قریب داغے گئے۔ جاپانی حکومت نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ میزائل کورین جزیرہ نما کے مشرقی ساحل کے قریب گرے ہیں، تاہم جاپان کے خصوصی اقتصادی زون میں کسی قسم کی خلاف ورزی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ان میزائل تجربات کے بعد جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے ایک ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جن میں شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر پابندی عائد ہے۔ دوسری جانب پیانگ یانگ ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے دفاع کے خود مختار حق میں مداخلت قرار دیتا ہے۔
کیونگ نام یونیورسٹی کے پروفیسر لم یول چول کا کہنا ہے کہ امریکہ کی توجہ ایران پر مرکوز ہونے کے باعث شمالی کوریا اسے اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو بڑھانے کا بہترین موقع سمجھتا ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے بدھ کے روز خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں سنگین پیش رفت کی ہے، جس میں یورینیم افزودگی کی ایک نئی تنصیب کا اضافہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
مارچ کے اواخر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے واضح کیا تھا کہ ان کے ملک کی جوہری ریاست کی حیثیت ناقابل تنسیخ ہے اور قومی سلامتی کے لیے جوہری ڈیٹرنس کا پھیلاؤ ناگزیر ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور چین مئی کے وسط میں ایک سربراہی اجلاس کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان شمالی کوریا کے معاملے پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
