-Advertisement-

قطر سے ایل این جی لے جانے والے پانچ بحری جہاز آبنائے ہرمز کے قریب پہنچ گئے

تازہ ترین

ملائیشیا: خوفناک آتشزدگی سے ایک ہزار مکانات خاکستر، ہزاروں افراد بے گھر

ملائیشیا کی ریاست صباح کے ساحلی علاقے سانڈاکان میں خوفناک آتشزدگی کے باعث ایک ہزار کے قریب گھر جل...
-Advertisement-

قطر کے شہر راس لفان سے مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی سے لدے پانچ بحری جہاز آبنائے ہرمز کی جانب گامزن ہیں۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعداد و شمار کے مطابق اگر یہ جہاز بحفاظت آبنائے کو عبور کر لیتے ہیں تو یہ 28 فروری کو ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی شروع ہونے کے بعد سے اس آبی گزرگاہ سے ایل این جی کی پہلی ترسیل ہوگی۔

ایران نے جمعرات کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد جمعہ کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا تھا۔ قبل ازیں یہ آبی گزرگاہ عالمی ایل این جی تجارت کے پانچویں حصے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ ہفتے کے روز تیل بردار جہازوں کا ایک قافلہ بھی آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔

تجزیاتی فرم کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق جن جہازوں نے مشرق کی جانب سفر شروع کیا ہے ان میں الجشامیہ، لیبریٹھا، فویرت، راشدہ اور دیشا شامل ہیں۔ ان میں سے پہلے چار جہاز قطر انرجی کے زیر کنٹرول ہیں جبکہ دیشا کو بھارت کی پیٹرونیٹ نے چارٹر کر رکھا ہے۔ قطر انرجی کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

کیپلر میں ایل این جی انسائٹ کی منیجر لورا پیج کے مطابق ان پانچوں جہازوں نے قطر کے راس لفان پلانٹ سے گیس لوڈ کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں سے دو جہاز پاکستان، دو بھارت جبکہ ایک جہاز کی منزل تاحال واضح نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ادنوک کے دو خالی جہاز خلیج عمان میں داخل ہو کر فجیرہ کے باہر لنگر انداز ہوئے ہیں۔

جہازوں کی یہ نقل و حرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ راس لفان کے شمالی پلانٹ اور متحدہ عرب امارات کے داس آئی لینڈ پلانٹ میں پیداواری عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ قطر ایل این جی کا دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ملک ہے جس کی زیادہ تر ترسیل ایشیائی منڈیوں کو جاتی ہے۔ تاہم ایرانی حملوں کے نتیجے میں قطر کی ایل این جی برآمد کرنے کی صلاحیت کا 17 فیصد حصہ متاثر ہوا تھا اور اندازہ ہے کہ مرمت کے کاموں کے باعث 12.8 ملین میٹرک ٹن سالانہ ایندھن کی سپلائی تین سے پانچ سال تک متاثر رہ سکتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -