-Advertisement-

بحیرہ کیریبین میں امریکی کارروائی، منشیات سمگلنگ میں ملوث کشتی پر حملہ، 3 افراد ہلاک

تازہ ترین

اسلام آباد: حفاظتی وجوہات کے پیش نظر ہائیکنگ ٹریلز غیر معینہ مدت کے لیے بند

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے عوامی تحفظ اور انتظامی امور کے پیش نظر شہر کے متعدد...
-Advertisement-

امریکی فوج نے کیریبین سمندر میں منشیات کی اسمگلنگ کے شبے میں ایک کشتی کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لاطینی امریکی پانیوں میں مبینہ منشیات فروشوں کی کشتیوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ ستمبر کے اوائل سے جاری ہے۔ اب تک کی کارروائیوں میں کم از کم 181 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مشرقی بحر الکاہل میں بھی ایسی ہی کارروائیاں کی گئی ہیں اور اب تک مجموعی طور پر 54 کشتیوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات مغربی نصف کرے میں منشیات کی دہشت گردی روکنے کے لیے ناگزیر ہیں تاہم امریکی فوج نے تاحال اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا کہ نشانہ بننے والی کشتیوں پر منشیات موجود تھیں۔

امریکی سدرن کمانڈ کے ترجمان نے اس حوالے سے موقف اختیار کیا ہے کہ آپریشنل سیکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر مخصوص ذرائع اور طریقوں کے بارے میں بات نہیں کی جا سکتی۔

یہ کارروائیاں اس وقت شروع کی گئیں جب امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی میں کئی دہائیوں بعد نمایاں اضافہ کیا تھا۔ ان اقدامات کے چند ماہ بعد جنوری میں وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

اتوار کو ہونے والے تازہ ترین حملے کے بعد سدرن کمانڈ نے اپنے پرانے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ کشتی کو معروف اسمگلنگ روٹ پر نشانہ بنایا گیا۔ کمانڈ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں کشتی کو دھماکے کے بعد شعلوں میں گھرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا لاطینی امریکہ میں کارٹیلز کے ساتھ مسلح تصادم میں مصروف ہے۔ ان کا موقف ہے کہ منشیات کی امریکہ آمد اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے یہ کارروائیاں ضروری ہیں۔ تاہم ناقدین ان حملوں کی قانونی حیثیت پر مسلسل سوالات اٹھا رہے ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کے منشیات فروش ہونے کے دعووں کے حق میں شواہد کا فقدان ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -