-Advertisement-

امریکی کارروائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے امکانات غیر یقینی صورتحال کا شکار

تازہ ترین

عالمی معیشت کا انحصار: فوسل فیولز سے چھٹکارا کیوں مشکل ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی معیشت اور توانائی کی...
-Advertisement-

واشنگٹن اور قاہرہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ پیر کے روز امریکی فوج کی جانب سے ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو بندر عباس کی جانب سفر کے دوران قبضے میں لینے کے واقعے نے خطے میں کشیدگی کو ایک بار پھر عروج پر پہنچا دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جہاز اب ان کی حراست میں ہے اور اس پر موجود سامان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے اس واقعے کو امریکی بحریہ کی جانب سے کھلی سمندری دہشت گردی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران جلد اس کا بھرپور جواب دے گا۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ جہاز چین سے آ رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھی گئی ہے۔

دوسری جانب ایران نے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی، دھمکی آمیز بیانات اور واشنگٹن کے غیر متوازن مطالبات کے ہوتے ہوئے بات چیت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے واضح کیا ہے کہ اگر ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں برقرار رہیں تو خطے میں کسی کو بھی محفوظ ٹرانزٹ کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ان کی شرائط تسلیم نہ کیں تو امریکہ ایرانی تنصیبات اور پلوں کو تباہ کر دے گا۔ جواب میں ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خلیجی عرب ممالک کے پاور اسٹیشنز اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔

مذاکرات کے حوالے سے ابہام برقرار ہے۔ امریکی وفد کی اسلام آباد آمد متوقع تھی، جہاں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سرینا ہوٹل کو خالی کروا لیا گیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کے متضاد بیانات نے وفد کی آمد کو مشکوک بنا دیا ہے۔

فروری سے جاری اس جنگ نے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی یومیہ پیداوار میں تقریباً 8 ملین بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ جوہری مسائل اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر دونوں فریقین کے درمیان خلیج تاحال موجود ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -