-Advertisement-

مصنوعی ذہانت ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی جگہ نہیں لے گی، امریکی وزیر ٹرانسپورٹ کا بیان

تازہ ترین

امریکہ کی ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والوں پر نئی پابندیاں عائد

واشنگٹن نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدامات تہران...
-Advertisement-

امریکی محکمہ نقل و حمل نے ملک کے فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بارہ ارب ڈالر کے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کو بھی نظام کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر برائے نقل و حمل شان ڈفی نے ان خدشات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مقصد فضائی ٹریفک کنٹرولرز کی جگہ لینا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ انسانی کنٹرولرز کی جگہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو دے دی جائے اور فضائی حدود کا انتظام مکمل طور پر مشین کے حوالے کر دیا جائے۔

وزیر نقل و حمل کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو محض ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد فضائی پروازوں کے شیڈول کو ایف اے اے کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ کر کے تاخیر کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ یہ سافٹ ویئر پینتالیس دن پہلے ہی پروازوں کے اوقات میں چند منٹ کی ردوبدل کی نشاندہی کر سکے گا تاکہ پروازوں کی بروقت روانگی یقینی بنائی جا سکے۔

کانگریس نے گزشتہ برس بگ بیوٹی فل بل کے ذریعے محکمہ نقل و حمل کو ساڑھے بارہ ارب ڈالر کی خطیر رقم فراہم کی تھی۔ اس فنڈ سے اب تک پچاس فیصد تانبے کی تاروں کو تبدیل کیا جا چکا ہے، جبکہ دو سو ستر ریڈیو سائٹس کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چونتیس ہوائی اڈوں پر طیاروں کی زمینی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے جدید نظام نصب کیے گئے ہیں اور سترہ ٹاورز میں روایتی کاغذی پرچیوں کی جگہ الیکٹرانک فلائٹ سٹرپس متعارف کرائی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سافٹ ویئر کے حصول کے لیے مزید چھ سے دس ارب ڈالر کے فنڈز درکار ہوں گے، جس کے لیے کانگریس سے منظوری طلب کی جا رہی ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیویارک کے لاگارڈیا ایئرپورٹ پر پیش آنے والے مہلک تصادم سمیت فضائی ٹریفک کنٹرول میں غلطیوں کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ شان ڈفی نے اعتراف کیا کہ فضائی حدود کا انتظام انسان سنبھالتے ہیں اور ان سے غلطی کا امکان موجود رہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی لیے وہ کنٹرولرز کو اضافی جدید آلات فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ غلطیوں کی گنجائش کو کم سے کم کیا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -