اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں درجہ حرارت کو ریکارڈ بلندیوں تک پہنچانے والا موسمیاتی رجحان ایل نینو سن 2026 کے وسط تک دوبارہ متحرک ہو سکتا ہے۔ جنیوا سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی کے دوران اس رجحان کے ظہور پذیر ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
عالمی موسمیاتی ادارے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی اشارے ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ موسمیاتی ایونٹ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ایل نینو ایک قدرتی عمل ہے جس کے دوران بحر الکاہل کے مرکزی اور مشرقی خط استوا کے قریب سطح سمندر کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جس سے ہوائوں کے رخ، فضائی دبائو اور بارشوں کے معمولات میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
ماہر موسمیات ولفراں موفوما اوکیا کے مطابق سال کے اوائل میں غیر جانبدار حالات کے بعد اب ایل نینو کے آغاز اور اس کے بعد مزید شدت اختیار کرنے کے حوالے سے کافی اعتماد پایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ماڈلز اس کے طاقتور ہونے کی نشاندہی کر رہے ہیں تاہم اپریل کے بعد پیشن گوئی کی درستگی میں مزید بہتری آئے گی۔
گزشتہ ایل نینو سائیکل کے دوران سال 2023 تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال رہا جبکہ 2024 نے اب تک کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ عام طور پر یہ رجحان ہر دو سے سات سال بعد ظاہر ہوتا ہے اور نو سے بارہ ماہ تک برقرار رہتا ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ گلوبل سیزنل کلائمیٹ اپڈیٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ خط استوا کے قریب بحر الکاہل میں سطح سمندر کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگلے تین ماہ کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں زمینی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
عالمی موسمیاتی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ایل نینو کے وقوع پذیر ہونے کی شرح یا شدت میں اضافہ کرتی ہے، تاہم گرم سمندر اور فضا میں موجود اضافی توانائی و نمی ہیٹ ویوز اور شدید بارشوں جیسے واقعات کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔
