-Advertisement-

ایرانی وفد کا آج اسلام آباد پہنچنے کا امکان، اہم مذاکرات متوقع

تازہ ترین

ایران پر امریکی ناکہ بندی عالمی سطح پر پھیل رہی ہے: امریکی وزیر دفاع

واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی کا...
-Advertisement-

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ کی رات ایک مختصر وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچیں گے۔ سرکاری اور سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے کا مقصد پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں مذاکرات کی تیاریوں کے سلسلے میں امریکی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم پہلے ہی پہنچ چکی ہے۔

یہ دورہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت کے بعد عمل میں آ رہا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملاقاتوں میں علاقائی صورتحال اور ایران و امریکہ کے درمیان جاری جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے ایران کے ساتھ بقایا مسائل کے حل کے لیے مسلسل رابطوں اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

عباس عراقچی نے پاکستان کے تعمیری اور مستقل کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ سفارتی سرگرمیاں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تہران و واشنگٹن کے درمیان نازک جنگ بندی کے تناظر میں ہو رہی ہیں۔

دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا تھا۔ ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھے گا اور انہوں نے امریکی فوج کو آبنائے ہرمز میں ایرانی گن بوٹس کو تباہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکہ پر عدم اعتماد مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور واشنگٹن کے متضاد بیانات صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ تہران نے امریکی دھمکیوں اور سمندری راستوں کو محدود کرنے کی کوششوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کشیدگی کے باوجود ایرانی حکام کا موقف ہے کہ تہران سفارتکاری کے لیے تیار ہے تاہم مذاکرات کے طریقہ کار پر بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -