-Advertisement-

وینزویلا کے صدر کی معزولی پر سٹہ بازی: امریکی فوجی پر چار لاکھ ڈالر کمانے کا الزام

تازہ ترین

خطے میں کشیدگی: اسحاق ڈار اور روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کا ٹیلی فونک رابطہ

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ٹیلی فون پر...
-Advertisement-

امریکی محکمہ انصاف نے انکشاف کیا ہے کہ وینزویلا کے معزول رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری میں ملوث امریکی فوج کے ایک اہلکار پر خفیہ معلومات کا غلط استعمال کر کے چار لاکھ ڈالر کمانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ماسٹر سارجنٹ گینن کین وین ڈائک پر الزام ہے کہ انہوں نے مادورو کے اقتدار کے خاتمے پر سٹے بازی کے ذریعے یہ رقم حاصل کی۔

مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کردہ فرد جرم کے مطابق 38 سالہ وین ڈائک نے جنوری میں مادورو کی گرفتاری سے قبل حساس سرکاری معلومات تک رسائی حاصل کی اور پولی مارکیٹ نامی پلیٹ فارم پر شرطیں لگائیں کہ امریکی فوج وینزویلا میں داخل ہو گی اور مادورو اقتدار سے ہٹا دیے جائیں گے۔

وین ڈائک پر غیر قانونی مالیاتی لین دین، سرکاری معلومات کی چوری، کموڈیٹیز فراڈ اور وائر فراڈ سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ محکمہ انصاف کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں پریڈکشن مارکیٹ میں ان سائیڈر ٹریڈنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

امریکی اٹارنی جنرل کے قائم مقام ٹوڈ بلانچ نے اپنے بیان میں کہا کہ وردی پوش اہلکاروں پر قومی سلامتی کی خفیہ معلومات پر بھروسہ کیا جاتا ہے، تاہم ان معلومات کا ذاتی مالی مفاد کے لیے استعمال سخت ممنوع اور ناقابل معافی جرم ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے سے پوری طرح واقف نہیں ہیں تاہم انہوں نے اس واقعے کا موازنہ بیس بال کھلاڑی پیٹ روز کے جوئے کے سکینڈل سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے۔

پولی مارکیٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود اس معاملے کی اطلاع محکمہ انصاف کو دی تھی اور ان کے پلیٹ فارم پر ان سائیڈر ٹریڈنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ادھر امریکی کموڈیٹی فیوچر ٹریڈنگ کمیشن نے بھی وین ڈائک کے خلاف دیوانی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

فرد جرم میں بتایا گیا ہے کہ وین ڈائک 2008 سے امریکی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور حال ہی میں شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں تعینات تھے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزم مادورو کی گرفتاری کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں شامل تھے۔ ان کے خلاف ثبوت کے طور پر تین جنوری کی صبح لی گئی ایک تصویر بھی پیش کی گئی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر امریکی بحری جہاز پر موجود ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -