-Advertisement-

برطانیہ کے 60 سابق سفیروں کا اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق پر سخت انتباہ

تازہ ترین

بھارت کی ریاست منی پور میں نسلی فسادات، 3 افراد ہلاک

بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں نسلی گروہوں کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں تین افراد...
-Advertisement-

برطانیہ کے 80 سے زائد سابق سفارت کاروں اور اعلیٰ حکام نے برطانوی حکومت اور اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں۔ فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مشترکہ خط میں 60 سابق سفیروں اور ہائی کمشنرز سمیت دیگر اہم شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی توسیعی پالیسیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔

سابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کی توجہ ایران اور لبنان کی صورتحال پر مرکوز ہے جبکہ اس دوران اسرائیل مغربی کنارے اور غزہ میں اپنے کنٹرول کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل یورپ اور امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدوں کی شرائط کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے، جن میں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کا احترام لازمی قرار دیا گیا تھا۔

خط میں اسرائیل پر ریاستی سرپرستی میں آباد کاروں کے تشدد اور فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دستخط کنندگان نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایسوسی ایشن معاہدہ معطل کرے، بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کرے اور اسلحہ کی فراہمی روک دے۔ برطانیہ سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بستیوں کے ساتھ تمام تجارتی روابط ختم کرے اور اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا بستیوں کا منصوبہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جسے برطانیہ نے ستمبر 2025 میں تسلیم کیا تھا۔ سابق سفارت کاروں نے زور دیا کہ محض مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں، بلکہ برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کو اب عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -