امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت کرنے والے امریکی شہریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نیوز ویک کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کے باوجود صدر کو عہدے سے ہٹانے کے امکانات تاحال کم ہیں۔
تازہ ترین سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 55 فیصد شرکاء مواخذے کے حق میں ہیں، جبکہ اس کے مخالفین کی تعداد اقلیت میں ہے۔ یہ اعداد و شمار امریکی عوام کی بدلتی ہوئی رائے اور صدر کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔
مذکورہ رپورٹ کے مطابق، مواخذے کی حمایت میں اضافہ بڑی حد تک اپوزیشن ووٹرز کی جانب سے کیا جا رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کا بنیادی حامی گروپ اس کارروائی کی سختی سے مخالفت کر رہا ہے۔ یہ رجحان ان کے دوسرے دور صدارت میں امریکی سیاست میں گہری پولرائزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاسی پیش گوئی کرنے والے پلیٹ فارمز پر بھی مواخذے اور برطرفی کے امکانات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، یہ شرح 28 سے 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو حالیہ مہینوں میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح ہے۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ مواخذے کا امکان موجود ہونے کے باوجود صدر کی برطرفی بعید از قیاس ہے۔
امریکی آئین کے تحت مواخذے کا عمل دو مراحل پر مشتمل ہے۔ ایوان نمائندگان سادہ اکثریت سے مواخذے کی تحریک منظور کر سکتا ہے، تاہم صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں اس حد کو عبور کرنا ایک مشکل ہدف سمجھا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران دو بار مواخذے کا سامنا کرنے والے واحد امریکی صدر ہیں، جنہیں 2019 اور 2021 میں سینیٹ نے بری کر دیا تھا۔ یہ تاریخی پس منظر مستقبل میں کسی بھی ممکنہ کارروائی کے حوالے سے توقعات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
مواخذے پر یہ بحث صدر ٹرمپ کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر ہونے والی تنقید کے درمیان دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی رائے کا اظہار اپنی جگہ اہم ہے، تاہم حتمی فیصلہ کانگریس کی سیاسی مرضی پر منحصر ہوگا۔ مجموعی طور پر، امریکی عوام کی رائے اور قانون سازی کی حقیقت کے درمیان موجود خلیج موجودہ سیاسی منظرنامے کی سب سے بڑی پہچان ہے۔
