مراکش کے دارالحکومت کے تاریخی منظر نامے پر 55 منزلہ بلند و بالا ٹاور کا افتتاح کر دیا گیا ہے، جو ملک کے بڑھتے ہوئے عالمی عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ سات سو ملین ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والا 820 فٹ بلند محمد ششم ٹاور افریقہ کی بلند ترین عمارتوں میں شامل ہے۔ یہ منصوبہ مراکش کی معاشی ترقی اور سیاحتی شعبے کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ڈویلپمنٹ کمپنی او ٹاور کی ڈائریکٹر لیلیٰ ہداوی کے مطابق اس منصوبے سے 450 براہ راست اور 3500 بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ اٹھارہ سال کے طویل عرصے میں مکمل ہونے والے اس ٹاور کی تعمیر میں ایک درجن سے زائد ممالک کے ڈھائی ہزار سے زائد کارکنوں نے حصہ لیا۔ راج دھانی رباط اور اس کے جڑواں شہر سالے کے سنگم پر واقع یہ ٹاور اب مراکش کے 200 درہم کے کرنسی نوٹ کی بھی زینت بن چکا ہے۔
عمارت کے اندر والڈورف ایسٹوریا ہوٹل، دفاتر، دکانیں، ریستوران اور رہائشی اپارٹمنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ اس ٹاور کا تصور 93 سالہ ارب پتی عثمان بن جلون نے پیش کیا تھا جو بینک آف افریقہ کے مالک ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا خیال انہیں 1969 میں ناسا کے دورے کے دوران آیا تھا۔
مراکش کی حکومت اس منصوبے کے ذریعے رباط اور سالے کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرنا چاہتی ہے تاکہ 2030 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی سے قبل سیاحوں کو راغب کیا جا سکے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ترقیاتی کام صرف ساحلی پٹی تک محدود ہیں جبکہ دیگر علاقے اب بھی پسماندگی کا شکار ہیں، جس پر گزشتہ برس نوجوانوں کی جانب سے بے روزگاری اور ناقص عوامی سہولیات کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا تھا۔
یہ ٹاور بحر اوقیانوس کے کنارے واقع ہے اور اپنی منفرد ساخت کے باعث افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مراکش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ 1 لاکھ 2 ہزار 800 مربع میٹر سے زائد رقبے پر پھیلی یہ عمارت مراکش کی نئی عالمی پہچان بننے کے لیے تیار ہے۔
