امریکی سدرن کمانڈ کے مطابق مشرقی بحر الکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ جمعہ کے روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکی فوج نے تصدیق کی کہ اس آپریشن میں کوئی بھی امریکی فوجی اہلکار زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔
امریکی سدرن کمانڈ نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں کشتی کو پانی میں تیرتے ہوئے اور پھر دھماکے کے بعد شعلوں میں گھرے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ کے معروف راستوں پر کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے لاطینی امریکہ کے پانیوں میں مبینہ منشیات فروشوں کی کشتیوں کو نشانہ بنانے کی مہم ستمبر سے جاری ہے۔ اس عرصے کے دوران اب تک مجموعی طور پر کم از کم 183 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کیریبین سمندر میں بھی اسی طرح کے حملے کیے گئے ہیں۔ تاہم امریکی فوج کی جانب سے تاحال اس بات کے ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے کہ ان میں سے کوئی بھی کشتی واقعی منشیات لے جا رہی تھی۔
یہ حملے ایسے وقت میں شروع ہوئے جب امریکہ نے خطے میں اپنی سب سے بڑی فوجی موجودگی قائم کی ہے۔ یہ کارروائیاں جنوری میں ہونے والے اس چھاپے سے چند ماہ قبل شروع ہوئیں جس میں وینزویلا کے اس وقت کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مادورو کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے نیویارک لایا گیا تھا جہاں انہوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکہ لاطینی امریکہ میں کارٹیلز کے ساتھ مسلح تصادم کی حالت میں ہے اور ان حملوں کو امریکہ میں منشیات کے بہاؤ کو روکنے کے لیے ایک ضروری اقدام قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ناقدین نے کشتیوں پر ان حملوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
