پاکستان نے مقامی سطح پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ ای او تھری کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا ہے جسے ملکی خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ سیٹلائٹ چین کے تائیوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے سپارکو کی جانب سے روانہ کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں اس پیشرفت کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ اس کامیاب تجربے سے پاکستان کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیتوں اور خلائی شعبے میں خود انحصاری کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ای او تھری سیٹلائٹ ہائی ریزولیوشن امیجنگ ڈیٹا فراہم کرے گا جو شہری منصوبہ بندی، قدرتی آفات کے انتظام، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ جیسی قومی ترجیحات کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔
یہ سیٹلائٹ ایک مربوط ارتھ آبزرویشن سسٹم کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرے گا جس سے باخبر فیصلے کرنے اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سپارکو کے انجینئرز اور سائنسدانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کو سراہتے ہوئے اسے ملکی تکنیکی ترقی کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر چین کے مسلسل تعاون کا بھی اعتراف کیا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کا عکاس قرار دیا جو پاکستان کے خلائی عزائم کی تکمیل میں معاون ہے۔
ای او تھری کا اجراء سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور ماحولیاتی و ترقیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کی قومی صلاحیتوں کو بڑھانے کی جانب ایک فیصلہ کن پیشرفت ہے۔
