وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران ہفتے کی شب ایک سیکرٹ سروس ایجنٹ پر فائرنگ کے واقعے نے امریکہ میں سیاسی قیادت کی سکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے اس دور میں اس واقعے نے ملک کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے سکیورٹی حصار میں موجود خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، پینٹاگون چیف پیٹ ہیگسیٹھ، اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیر داخلہ ڈگ برگم سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران اور بڑی تعداد میں قانون ساز موجود تھے۔ اس تقریب کی حفاظت کے لیے متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینکڑوں ایجنٹ مامور تھے، تاہم ایک مشتبہ شخص شاٹ گن اور دیگر ہتھیاروں کے ساتھ بال روم سے صرف ایک منزل اوپر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔
واشنگٹن پولیس چیف کے مطابق ملزم، جس کے پاس شاٹ گن، ہینڈ گن اور چاقو موجود تھے، اسی واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں قیام پذیر تھا جہاں عشائیہ منعقد کیا گیا تھا۔ ویڈیو فوٹیج میں ملزم کو سکیورٹی چیک پوائنٹ سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں اس نے ایک ایجنٹ کو گولی ماری جس کے فوراً بعد اسے قابو کر کے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔
صدر ٹرمپ نے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت خاص طور پر محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے فرسٹ ریسپانڈرز اور سیکرٹ سروس کی کارکردگی کو سراہا۔ واضح رہے کہ اسی ہوٹل میں 1981 میں سابق صدر رونالڈ ریگن پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔
واقعے کے وقت بال روم میں موجود مہمانوں نے گولیوں کی آوازیں سنیں جس کے بعد وہاں افراتفری پھیل گئی۔ سیکرٹ سروس کے ایجنٹس نے فوری طور پر صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ اس دوران کابینہ کے دیگر ارکان کے سکیورٹی عملے نے اپنے تحفظ یافتہ افراد کو زمین پر لٹا کر انسانی ڈھال بنا لی، جبکہ مہمانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
تقریب میں شرکت کرنے والے تقریباً 2600 افراد کو بال روم میں داخلے کے لیے میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا پڑا، لیکن ہوٹل کی حدود میں داخلے کے لیے صرف ٹکٹ دکھانا کافی تھا۔ یہ واقعہ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کے دو سال سے بھی کم عرصے میں پیش آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سکیورٹی کا وسیع تر نظام اب بھی کمزوریاں رکھتا ہے۔
