صوبائی وزیر برائے امور اقلیت پنجاب رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کوئی نیا واقعہ نہیں، مودی حکومت پہلگام کے واقعے کو اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جبکہ بھارت نے پہلگام کے نام نہاد واقعے کی آڑ میں پاکستان کے خلاف جارحیت کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کیا ہے جبکہ بھارت سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے اور اس کا نام نہاد سیکولر چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے کرتارپور راہداری کھول کر مذہبی ہم آہنگی کی بہترین مثال قائم کی، اس کے برعکس بھارت میں مسیحی برادری کو کرسمس منانے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو مختلف بہانوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، پاکستان اور بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کا کوئی موازنہ نہیں کیونکہ پاکستان میں تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور مساوی حقوق حاصل ہیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے مذہبی امور خالد داس کوہستانی نے کہا کہ کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا اور بھارت نے پہلگام کے واقعے کو بلا جواز پاکستان سے جوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو عقوبت خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں مودی سرکار ریاستی مشینری کو اقلیتوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔
نیشنل پیس کمیٹی کے رکن راجیش کمار ہرداسانی نے کہا کہ مودی نے سیاسی مفادات کے لیے ہندومت کی شناخت کو نقصان پہنچایا اور بھارت میں ہندو مسلم تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی۔ بشپ ندیم کامران نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی مثالی ہے اور اقلیتوں کی عبادت گاہیں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں بھارت میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کیا گیا، جبکہ پاکستان میں اقلیتوں کو حاصل مذہبی آزادی اور تحفظ کے مناظر بھی پیش کیے گئے۔
